متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں ‘گارڈن لیو’ کے دوران دوسری جگہ کام کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟

خلیج اردو

دبئی: ایک ملازم نے سوال کیا کہ کمپنی نے تین ہفتے قبل نوکری ختم کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ تین ماہ کی نوٹس مدت کے دوران دفتر نہ آئیں۔ کمپنی اس مدت کو ’گارڈن لیو‘ مان رہی ہے اور تنخواہ بھی ادا کر رہی ہے، مگر ساتھ ہی شرط رکھی ہے کہ اس دوران وہ کسی اور ادارے میں کام نہیں کر سکتے۔ ملازم نے پوچھا کہ کیا کمپنی کو ایسا کرنے کا حق حاصل ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق، ہاں — کمپنی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نوٹس مدت کے دوران ملازم کو کسی دوسرے ادارے میں کام کرنے سے روکے، کیونکہ وہ اس مدت کی تنخواہ ادا کر رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے لیبر قانون کے آرٹیکل 43 کے مطابق، نوٹس پیریڈ کے دوران ملازمت کا معاہدہ برقرار رہتا ہے اور یہ مدت مکمل ہونے پر ہی ختم سمجھا جاتا ہے۔

آرٹیکل 43 کے مطابق: “نوٹس پیریڈ کے دوران ملازمت کا معاہدہ برقرار رہتا ہے، اور ملازم اس مدت کی مکمل تنخواہ کا حقدار ہوتا ہے۔ اگر آجر چاہے تو ملازم کو اس دوران کام کرنے کے لیے بھی کہہ سکتا ہے۔”

اگر کوئی فریق نوٹس پیریڈ کی پابندی نہیں کرتا تو اسے دوسرے فریق کو اتنی رقم ادا کرنی ہوتی ہے جو مکمل یا باقی نوٹس مدت کی تنخواہ کے برابر ہو۔

البتہ ملازم اور آجر باہمی رضامندی سے نوٹس پیریڈ کو کم یا معاف کر سکتے ہیں۔ اگر کمپنی ایسا کرنے پر راضی نہ ہو، تو ملازم قانوناً اس مدت کی شرائط کا پابند رہے گا، جیسا کہ آرٹیکل 43 میں واضح کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button