
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ہفتے کے روز ایک رہائشی نے پہلی بار 10 کروڑ درہم کا گرینڈ انعام جیت کر تاریخ رقم کر دی، جسے منتظمین نے امارات کی تفریحی اور گیمنگ تاریخ کا سنگ میل قرار دیا۔ فاتح کی شناخت صرف انیل کم** بی** کے طور پر کی گئی ہے، جن کی زندگی اب یکسر بدلنے والی ہے۔
خلیج ٹائمز نے اس موقع پر ماضی کے ان خوش نصیبوں سے گفتگو کی جنہوں نے یو اے ای میں لاٹری جیت کر اپنی زندگیاں بدل ڈالیں۔
انیش کرشنن، ایک بھارتی انجینئر جو 2022 میں عجمان کے ایک بیڈ اسپیس میں رہائش پذیر تھے، نے محض گزر بسر کے لیے جدوجہد کے دنوں میں محظوظ ڈرا سے ایک کروڑ درہم جیت لیے۔ آج وہ دبئی ساؤتھ میں ایک ولا اور دیگر جائیدادوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنے قرض اتارے، فیملی کو واپس دبئی بلایا اور اپنی بیٹی کو یہاں اسکول میں داخل کرایا۔
"زندگی بدل گئی لیکن میں سادہ زندگی گزار رہا ہوں، وہی ملازمت کر رہا ہوں، اور سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ گولڈن ویزا بھی مل گیا ہے۔” انیش کے مطابق، دولت دیکھ کر انسان آسانی سے بہک سکتا ہے، اس لیے نئے فاتح کے لیے ان کا مشورہ ہے کہ سوچ سمجھ کر فیصلے کرے۔
العین کے رہائشی منور نے 2023 میں بگ ٹکٹ کے ذریعے 2 کروڑ درہم جیتے۔ انہوں نے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر ٹکٹ خریدا تھا، جس میں سب کو تقریباً دس لاکھ درہم فی کس ملے۔ ایک سال بعد انہوں نے اپنی نوکری چھوڑ کر کاروبار شروع کیا اور اب "مالی آزادی” سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ فضول خرچی سے گریز کرتے ہیں اور قرض سے آزاد زندگی بسر کر رہے ہیں۔
ایک اور فاتح، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے رواں سال بگ ٹکٹ سے تقریباً 35 لاکھ درہم جیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ "یہ جیت ایک رولر کوسٹر تجربہ تھی۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے بدزبانی کی، کچھ نے پیسے مانگنے کے لیے فون تک کیے۔” انہوں نے انعامی رقم سے قرض اتارا، کچھ سرمایہ محفوظ کیا اور مستقبل کے لیے سمجھ داری سے منصوبہ بندی شروع کی۔
یہ تمام کہانیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ یو اے ای میں لاٹری جیتنے والے زیادہ تر لوگ عیش و عشرت کے بجائے مالی استحکام اور قرض سے نجات کو ترجیح دیتے ہیں۔







