
خلیج اردو
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں پانچ سے دس فیصد کی کمی سرمایہ کاروں کے لیے مارکیٹ میں داخل ہونے کا بہترین موقع فراہم کرے گی، کیونکہ یہ قیمتی دھات تاریخی بلندیوں کے قریب تجارت کر رہی ہے۔
گزشتہ دنوں عالمی مارکیٹ میں سونا 4,378.98 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، تاہم اختتامِ ہفتہ پر یہ معمولی کمی کے ساتھ 4,249.94 ڈالر فی اونس پر آ گیا، یعنی 0.94 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی، جو ’سونے کا شہر‘ کہلاتا ہے، میں بھی قیمتوں نے نیا ریکارڈ قائم کیا، جہاں 24 قیراط سونا پہلی بار 500 درہم فی گرام سے تجاوز کر گیا۔
پیپر اسٹون کے ہیڈ آف ریسرچ کرس ویسٹن کے مطابق، ’’مارکیٹ میں سونا خریدنے کے خواہشمند سرمایہ کاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس وقت اگر قیمتوں میں پانچ سے دس فیصد کی کمی آتی ہے تو یہ ایک مضبوط انٹری پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ چین اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہے۔ ’’عالمی مرکزی بینکوں نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں سونے کا حصہ گزشتہ چند سالوں میں 15 فیصد سے بڑھا کر 22 سے 23 فیصد تک کر دیا ہے،‘‘ ویسٹن نے وضاحت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار اب بھی سونے میں کم سرمایہ کاری کر رہے ہیں، حالانکہ اس کی دیگر مارکیٹوں سے کم وابستگی (Low Correlation) اسے پرکشش بناتی ہے۔ ’’روایتی طور پر 60/40 سرمایہ کاری ماڈل (60 فیصد ایکویٹی، 40 فیصد بانڈز) اب تبدیل ہو کر 60/20/20 کی طرف جا رہا ہے، جس میں سونا 20 فیصد تک شامل کیا جا رہا ہے، اور اس میں ابھی بہت زیادہ سرمایہ آنا باقی ہے،‘‘ ویسٹن نے بتایا۔
ترازے کے چیف مارکیٹنگ آفیسر افشین ستودہ نے خبردار کیا کہ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے۔ ’’مارکیٹ میں مواقع ضرور ہیں مگر جذباتی فیصلے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ سیکھیں، سمجھیں، اور حکمتِ عملی کے ساتھ ٹریڈ کریں۔ نہ جھجکیں، لیکن جلد بازی بھی نہ کریں،‘‘ انہوں نے مشورہ دیا۔







