
خلیج اردو
دبئی، 20 اکتوبر 2025
متحدہ عرب امارات میں دیوالی کا رنگا رنگ تہوار خوشیوں، روشنیوں اور مسکراہٹوں کے ساتھ منایا جا رہا ہے، تاہم حکام اور کمیونٹی مینجمنٹ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خوشیوں کے ساتھ ساتھ سماجی سکون اور باہمی احترام کو بھی یقینی بنائیں۔
ایمار کمیونٹی مینجمنٹ نے رہائشیوں کے نام جاری ایک ہدایت نامے میں یاد دہانی کرائی کہ شور کی سطح کو محدود رکھا جائے، خاص طور پر رات کے اوقات میں، تاکہ سب لوگ اپنے گھروں میں سکون سے رہ سکیں۔ ہدایت نامے میں کہا گیا کہ "آئیے ہم وہ امن و سکون برقرار رکھیں جو ہماری کمیونٹیز کو خاص بناتا ہے، شور میں کمی رکھنا اس بات کی ضمانت ہے کہ سب کو اپنی رہائش میں اطمینان میسر رہے۔”
ہدایت نامے میں بتایا گیا کہ امارات کی کثیرالثقافتی آبادی باہمی احترام اور سمجھ بوجھ پر پروان چڑھتی ہے، اس لیے تہواروں کے دوران تقریبات، موسیقی اور آتش بازی کے باوجود سماجی توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ شہریوں کو یاد دہانی کرائی گئی کہ وہ رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک شور کم رکھیں، آؤٹ ڈور سرگرمیوں میں آواز معتدل رکھیں، پالتو جانوروں کو ان اوقات میں اندر رکھیں، مشترکہ دیواروں کے قریب اونچی آواز میں موسیقی یا ٹی وی نہ چلائیں، اور گاڑیوں کے ہارن یا الارم کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں۔
قانونی ماہرین نے بھی زور دیا ہے کہ شور کی سطح برقرار رکھنا نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی ذمہ داری ہے۔ ممتاز وکیل آشش مہتا کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے سول ٹرانزیکشن لا کے آرٹیکل 1144 کے تحت کوئی بھی شخص اپنی ملکیت کے استعمال سے اپنے پڑوسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو شور یا آواز سے پریشانی ہو تو وہ دبئی میونسپلٹی کے “Noise Control Officer” کے پاس شکایت درج کر سکتا ہے، جو موقع پر جا کر معائنہ کرنے کے ساتھ پولیس کی مدد بھی طلب کر سکتا ہے۔
قانون کے مطابق، دبئی میونسپلٹی کے لوکل آرڈر نمبر 61 آف 1991 کے آرٹیکل 77 کے تحت کسی بھی شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ شور و غل سے متعلق شکایت درج کر کے اپنا سکون بحال کروا سکے۔







