
خلیج اردو
دبئی: سوشل میڈیا پر چھوٹے مالی فراڈز یا ’’مائیکرو فراڈز‘‘ کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں فراڈیے بڑے پیمانے کے جرائم سے ہٹ کر اب کم رقوم والے دھوکے دینے لگے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے چھوٹے فراڈز میں اب مصنوعی ذہانت (جنریٹیو اے آئی) کا استعمال بڑھ گیا ہے تاکہ دھوکہ دہی کے طریقے زیادہ حقیقی اور معتبر برانڈز سے منسلک دکھائی دیں۔
ماہرین کے مطابق یہ فراڈز مؤثر اس لیے ہیں کہ 100 یا 200 درہم جیسی چھوٹی رقوم لوگوں کو خطرہ محسوس نہیں ہوتیں۔ کئی اماراتی رہائشیوں نے بتایا کہ انہیں سوشل میڈیا پر جعلی لنکس کے ذریعے کم قیمت کی اشیا یا خدمات خریدنے کے بہانے پیسے ادا کرنے کو کہا گیا، بعد ازاں تصدیق پر پتہ چلا کہ ادائیگی کی یہ سائٹس جعلی تھیں۔
دبئی کے رہائشی کے مہیش نے بتایا کہ انہیں اچانک 770 درہم کی ٹرانزیکشن کا الرٹ ملا جو انہوں نے خود نہیں کی تھی۔ “میں نے فوراً اپنا کارڈ بلاک کر دیا کیونکہ میرے والدین نے بھی کوئی خریداری نہیں کی تھی۔”
سائبر سیکیورٹی ماہر ہائفا کیتیٹی نے کہا کہ پہلے بڑے مالی فراڈز عام تھے، مگر اب فراڈیے چھوٹی مگر تیز تر اسکیموں پر منتقل ہو گئے ہیں، جن میں تھوڑی رقم لے کر زیادہ لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ “اے آئی ٹیکنالوجی سے وہ زبان اور انداز مقامی بنا کر قابلِ اعتماد برانڈز کی طرح پیش کرتے ہیں، جس سے لوگ دھوکے میں آ جاتے ہیں۔”
کیتیٹی کے مطابق ایسے فراڈز میں انسان کا رویہ ہی اصل نشانہ ہوتا ہے۔ “چھوٹے تعاملات بڑے حملوں کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔”
ایف بی آر کے مطابق امارات میں روزانہ دو لاکھ سے زائد سائبر حملے رپورٹ ہو رہے ہیں، جن میں اسٹریٹیجک شعبے بھی شامل ہیں۔
کسپر اسکائی کے ماہر مہر یاموت کا کہنا ہے کہ لوگ چھوٹے نقصانات کو معمولی سمجھ کر رپورٹ نہیں کرتے، اس لیے اسکیمرز کو فائدہ ہوتا ہے۔ “جب نقصان کم ہو تو لوگ جلدی ادائیگی کرتے ہیں اور شک بھی نہیں کرتے، اسی سے مجرم ہزاروں لوگوں کو نشانہ بنا کر مجموعی طور پر بڑی رقم حاصل کر لیتے ہیں۔”
انہوں نے مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا صارفین کسی مشکوک لنک پر کلک نہ کریں، ذاتی معلومات یا کارڈ ڈیٹیل شیئر نہ کریں، اور ہمیشہ دو مرحلہ جاتی تصدیق (ٹو فیکٹر آتھینٹیکیشن) استعمال کریں۔
ہائفا کیتیٹی نے کہا کہ زیادہ تر اسکیمیں تیزی اور اعتماد کے عنصر پر چلتی ہیں۔ “چھوٹی رقم دیکھ کر لوگ فوراً عمل کر لیتے ہیں۔ اب اے آئی ایسے پیغامات عربی سمیت کئی زبانوں میں بالکل فطری انداز میں تیار کر دیتی ہے۔ اگر لوگ صرف چند لمحے رک کر تصدیق کر لیں تو بڑے اور چھوٹے دونوں فراڈز سے بچ سکتے ہیں۔







