
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی دو خواتین جنہوں نے چھاتی کے سرطان کے خلاف جنگ لڑی، اب اپنی کہانیوں سے دوسروں کے لیے امید اور حوصلے کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ ایمان اور خاندان کی طاقت سے سہارا لے کر ان خواتین نے نہ صرف بیماری کو شکست دی بلکہ زندگی کے معنی بھی بدل ڈالے۔
سارہ الشیبانی کو 2013 میں 34 سال کی عمر میں اس مرض کی تشخیص ہوئی۔ انہوں نے فوراً سرجری کروائی اور چھ ماہ تک کیموتھراپی کے بعد اپریل 2014 میں مکمل صحتیابی حاصل کی۔ سارہ کا کہنا تھا، “مجھے کبھی خوف محسوس نہیں ہوا، میں نے بیماری کو مثبت انداز میں قبول کیا۔ اگر مریض خود کو حوصلہ نہ دے تو دنیا کا کوئی سہارا فائدہ نہیں دیتا۔”
انہوں نے بتایا کہ علاج کے دوران سب سے مشکل مرحلہ ابتدائی تین ماہ تھا جب “ریڈ کیمو” دی جاتی تھی جس سے قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے، مگر انہوں نے خود کو بند نہیں کیا۔ “میں پارک اور شاپنگ مال جاتی رہی، بال جھڑنے کے بعد بھی میک اپ کر کے باہر نکلتی تھی۔ میں نے ہر لمحہ جی بھر کے جیا۔”
سارہ کی زندگی صحتیابی کے بعد ایک نئی سمت میں آگے بڑھی۔ شادی کے بعد انہوں نے آئی وی ایف علاج کروایا اور اب ایک سالہ بیٹے کی ماں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بیماری نے ان کی سوچ بدل دی، “میں نے فنانس سے ہومن کیپیٹل کے شعبے میں تبدیلی کی، کیونکہ میں نے سیکھا کہ ذہنی دباؤ صحت کو متاثر کرتا ہے۔”
دوسری جانب، ویام الہاشمی، جو ابوظہبی میں ایگزیکٹیو کوچ ہیں، نے رواں سال فروری میں کینسر کی تشخیص کے بعد زندگی کی سب سے مشکل آزمائش کا سامنا کیا۔ ان کا علاج ڈاکٹر عائشہ السالمی کی نگرانی میں ہوا۔ “مجھے ٹرپل پازیٹو قسم کا کینسر تھا، جس کے لیے چھ ڈوزز کیموتھراپی، سرجری اور ریڈی ایشن دی گئی۔”
ڈاکٹر عائشہ کے مطابق، ویام ان نایاب مریضوں میں سے ہیں جنہیں تقریباً تمام ممکنہ ضمنی اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ ویام نے بتایا، “پہلی ڈوز بہت سخت تھی، جسم جلتا محسوس ہوتا تھا۔ میں نے فون بند کر دیا اور خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ خود سے بات کرنا اور مثبت سوچ رکھنا سب سے ضروری قدم ہے۔”
ویام نے بیماری کے باوجود اپنا پیشہ جاری رکھا۔ “ہر ڈوز کے بعد تین دن تک جسم کمزور رہتا، مگر چوتھے دن میں دوبارہ کام شروع کر دیتی تھی۔ کبھی کبھی اعصاب کے درد سے میں پینگوئن کی طرح چلتی تھی، مگر کسی کو خبر نہیں ہوتی تھی۔”
اپنی سب سے کمزور حالت میں، وہ ایک رات والد کے پاس گئیں اور کہا، “شاید کل میں نہ اٹھ سکوں، بہت تھک گئی ہوں۔” مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنے بال گرنے پر بھی حوصلہ نہیں ہارا، “میں نے خود سر منڈوا لیا، میٹھائیاں تقسیم کیں، فوٹو شوٹ کروایا، تاکہ یہ مرحلہ بھی میری طاقت کی علامت بن جائے۔”
اب ان کے بال واپس آ چکے ہیں اور ان کی زندگی ایک نئی امید سے بھری ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہیں، “یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ زندگی کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ ہم سب کو ایک دن جانا ہے، مگر میں چاہتی ہوں کہ میں لڑتے ہوئے جاؤں۔







