متحدہ عرب امارات

دبئی میں دیوالی کے موقع پر سونے کے سکے نایاب، غیر معمولی طلب کے باعث عارضی قلت

خلیج اردو
یو اے ای اور دبئی میں دیوالی کے دوران سونے کے سکوں کی زبردست مانگ دیکھنے میں آئی جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں کچھ اقسام کے سکوں کی عارضی قلت پیدا ہوگئی۔

دبئی کے جیولرز کے مطابق اس سال دیوالی پر تحفے اور مذہبی رسومات کے لیے چھوٹے سائز کے سکوں کی طلب گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی، حالانکہ سونے کی قیمت میں اس سال 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

میِنا جیولرز کے پارٹنر سنجے جیٹھوانی نے بتایا کہ دیوالی سے چند روز قبل خریداری کا رجحان سب سے زیادہ رہا اور پانچ اور دس گرام کے سکے توقع سے پہلے ہی فروخت ہو گئے۔ ان کے مطابق بڑی ویلیو کے سکے اور بارز کا ذخیرہ دستیاب رہا جبکہ چھوٹے سکوں کی وقتی قلت پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا سونے پر اعتماد اس سال بھی مضبوط رہا کیونکہ اسے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔

وینے جیٹھوانی نے کہا کہ اس سال دیوالی کے موقع پر سونے کے سکوں کی مانگ غیر معمولی رہی، لوگ زیورات کے ساتھ ساتھ مختلف ویلیو کے سکے بطور تحفہ خرید رہے تھے۔ خاص طور پر 5 اور 10 گرام کے سکے سب سے زیادہ پسند کیے گئے، جس سے مارکیٹ میں وقتی کمی واقع ہوئی۔ تاہم ریفائنریز اور سپلائرز دوبارہ اسٹاک بحال کر رہے ہیں۔

سیرویا جیولرز کے مالک چندو سیرویا کے مطابق سوئس سونے کے 5 اور 10 گرام بارز کی عارضی کمی رہی کیونکہ سرمایہ کاروں نے قیمتوں میں اضافے کی توقع کے پیش نظر بڑی تعداد میں سکے خریدے۔ ان کے مطابق کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سونا 5000 ڈالر فی اونس کی سطح تک جا سکتا ہے، جس سے خریداری کا رجحان مزید بڑھا۔

بافلے جیولرز کے مینیجنگ ڈائریکٹر چِراگ وورا نے بتایا کہ دیوالی اور دھنتیراس کے موقع پر گاہکوں نے سونے کے سکے زیادہ ترجیح دی تاکہ میکنگ چارجز سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق 24 قیراط کے سکے سب سے زیادہ فروخت ہوئے اور کچھ مخصوص وزن اور برانڈز عارضی طور پر مارکیٹ سے کم ہوگئے۔

ملبار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز کے منیجنگ ڈائریکٹر شاملال احمد نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے دیوالی سے قبل ہی اضافی اسٹاک کا بندوبست کر لیا تھا، جس سے وہ تمام گاہکوں کی ضروریات پوری کرنے میں کامیاب رہے۔

کنز جیولز کے منیجنگ ڈائریکٹر انیل دھانک نے واضح کیا کہ مارکیٹ میں سونے کے سکوں کی کمی نہیں بلکہ بڑی ویلیو والے بارز (50 اور 100 گرام) کی محدود دستیابی دیکھی گئی ہے۔ ان کے مطابق 22 قیراط کے سکے مناسب مقدار میں دستیاب ہیں، جبکہ 24 قیراط کے بڑے بارز کی طلب میں اضافے کے باعث عارضی قلت پیدا ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button