متحدہ عرب امارات

کےرالا میں اماراتی مقیم کے بیٹے کی خودکشی، استاد کی مبینہ توہین پر احتجاج اور تحقیقات کا آغاز

خلیج اردو
بھارتی ریاست کیرالہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک تارکِ وطن کے 14 سالہ بیٹے اے جے نے مبینہ طور پر استاد کی عوامی تضحیک کے بعد خودکشی کر لی۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد دو اساتذہ کو معطل کر دیا گیا جبکہ اسکول میں احتجاج بھی پھوٹ پڑا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نوعمر اے جے کو 14 اکتوبر کو اپنے گھر میں اسکول یونیفارم پہنے مردہ حالت میں پایا گیا۔ ایک روز قبل اسے اور اس کے چند دوستوں کو سوشل میڈیا پر نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر ڈانٹ پلائی گئی تھی۔ یہ معاملہ ایک والدین نے اسکول انتظامیہ کے سامنے اٹھایا تھا جس پر بچوں کو تنبیہ کی گئی، تاہم فیصلہ کیا گیا کہ معاملہ مزید آگے نہیں بڑھایا جائے گا کیونکہ طلبہ نے اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی۔

تاہم اگلے روز کلاس ٹیچر نے مبینہ طور پر پوری جماعت کے سامنے اے جے کو سائبر کرائم کیس میں جیل بھیجنے کی دھمکی دی، جس سے وہ سخت ذہنی دباؤ میں آ گیا۔ اسی روز اس کی خودکشی کی خبر سامنے آئی۔

نوعمر طالب علم کی نمازِ جنازہ اس کے والد کے امارات سے وطن پہنچنے کے بعد ادا کی گئی۔ اگلے دن طلبہ اور مختلف اسٹوڈنٹ یونینز نے اسکول کے باہر احتجاج کیا اور اساتذہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں اسکول انتظامیہ نے متعلقہ ٹیچر اور ہیڈمسٹریس کو 20 دن کے لیے معطل کر دیا۔

ریاست کے وزیر تعلیم نے واقعے کی تفصیلی انکوائری کا حکم دے دیا ہے، جبکہ پولیس نے غیر فطری موت کا مقدمہ درج کر کے طلبہ، عملے اور متعلقہ ٹیچر کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کر دیے ہیں۔

لڑکے کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ کلاس ٹیچر پچھلے چھ ماہ سے اسے دانستہ طور پر نشانہ بنا رہی تھی۔ ان کے مطابق اے جے کو ایک بار استاد نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے نشانات اس کی پیٹھ پر واضح تھے۔ اس کے والد نے اسکول انتظامیہ کو اس بابت شکایت کی تھی، جس کے بعد مبینہ طور پر استاد نے اسے مسلسل تنگ کرنا شروع کر دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button