متحدہ عرب امارات

ابوظہبی: مصنوعی ذہانت کی مدد سے چند منٹوں میں رہائشیوں کی ضروریات جاننے کا نیا نظام متعارف

خلیج اردو
ابوظہبی: محکمہ سماجی ترقی نے دو جدید ترین مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارمز متعارف کرائے ہیں جو رہائشیوں کی ضروریات کو سمجھنے اور ان پر فوری ردعمل دینے کے طریقہ کار کو مکمل طور پر بدلنے جا رہے ہیں۔

یہ دونوں نظام، کمیونٹی ویلبیئنگ پلیٹ فارم اور فیملی سپورٹ انسائٹس پلیٹ فارم، سماجی خدمات کو روایتی ردعمل دینے والے انداز سے ہٹا کر پیشگی اور فعال ماڈل میں منتقل کر رہے ہیں، جہاں سرکاری اعداد و شمار کا تجزیہ کر کے مسائل کے بڑھنے سے پہلے ہی ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

محکمہ کی مانیٹرنگ اینڈ امپیکٹ آفس کی قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسماء الراشدی کے مطابق کمیونٹی ویلبیئنگ پلیٹ فارم کا مقصد ابوظہبی کے رہائشیوں کی ضروریات کا 360 ڈگری جائزہ فراہم کرنا ہے تاکہ ہر علاقے کے تقاضے واضح انداز میں سامنے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھنا چاہتے ہیں کہ ابوظہبی کے مختلف علاقوں میں رہنے والوں کی ضروریات کیسے مختلف ہیں۔ اسی مقصد کے لیے ہم نے یہ پلیٹ فارم تیار کیا ہے تاکہ سماجی خدمات کو پیشگی بنیادوں پر بہتر بنایا جا سکے۔

یہ پلیٹ فارم تین بنیادی ذرائع سے ڈیٹا حاصل کرتا ہے۔ پہلا، مختلف سرکاری اداروں جیسے صحت، تعلیم اور پولیس کے ریکارڈ۔ دوسرا، سروے اور کمیونٹی فیڈ بیک۔ اور تیسرا، آن لائن دستیاب معلومات جیسے گوگل ریویوز وغیرہ۔

ان تمام معلومات کو یکجا کر کے نظام کمیونٹی تعلقات، خاندانی ڈھانچے، صحت، تعلیم، روزگار اور معاشی استحکام جیسے پہلوؤں کا تجزیہ کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہر علاقے کے مخصوص مسائل کے مطابق ترجیحات طے کی جاتی ہیں۔

اسماء الراشدی کے مطابق، مثال کے طور پر کسی علاقے کو اسپتالوں یا فیملی سینٹرز کی ضرورت ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے علاقے کو شور یا فضائی آلودگی جیسے مسائل کا سامنا ہو۔ یہ نظام ان تمام ترجیحات کو ڈیٹا کی بنیاد پر ترتیب دیتا ہے۔

دوسری جانب، محکمہ کے زیرِ انتظام فیملی سپورٹ انسائٹس پلیٹ فارم کا مقصد ایسے خاندانوں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے جو مالی یا سماجی مشکلات کا شکار ہونے کے خطرے میں ہوں، تاکہ ان کی مدد پہلے ہی ممکن بنائی جا سکے۔

ابوظہبی سوشل سپورٹ اتھارٹی کے آئی ٹی پروجیکٹس مینیجر سلطان المنصوری نے بتایا کہ یہ پلیٹ فارم خاندانی ڈیٹا جیسے قرضوں، قانونی کیسز، آمدنی، رہائش، خاندانی ڈھانچے اور عمر کی تفصیلات کا تجزیہ کر کے 18 مختلف منظرناموں میں تقسیم کرتا ہے اور ہر منظرنامے کے مطابق مدد یا رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ایک کیس مینیجر کو کسی خاندان کی مکمل صورتحال سمجھنے میں ہفتوں یا مہینوں لگتے تھے، لیکن اب یہ کام چند منٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ جیسے ہی ڈیٹا داخل کیا جاتا ہے، سسٹم فوری طور پر تجزیہ کر کے بتا دیتا ہے کہ کس قسم کی مدد درکار ہے۔

یہ پلیٹ فارم فی الحال تجرباتی مرحلے میں ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ جامع ڈیٹا تک رسائی بہتر ہونے کے ساتھ نظام کی درستگی اور مؤثریت مزید بڑھے گی۔

سلطان المنصوری نے کہا کہ جتنا زیادہ ڈیٹا ہمارے پاس ہوگا، ہم اتنا ہی بہتر طور پر ہر خاندان کو سمجھ سکیں گے اور زیادہ مؤثر مدد فراہم کر سکیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button