متحدہ عرب امارات

ابوظبی: دل کی سرجری کے صرف چھ ہفتے بعد ایتھلیٹ نے 230 کلومیٹر دوڑ لگا دی

خلیج اردو
ابوظبی میں مقیم 54 سالہ اردنی ایتھلیٹ محمود الخطیب نے صرف چھ ہفتے قبل جان بچانے والی انجیو پلاسٹی کے بعد، جس میں ان کے دل میں تین اسٹنٹ لگائے گئے، ایک ماہ میں 230 کلومیٹر کی دوڑ مکمل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر الخطیب نے دوڑنا محض 51 سال کی عمر میں شروع کیا تھا، لیکن انہوں نے پانچ گھنٹے کی نان اسٹاپ میراتھون، ایک صحرائی الٹرا ہاف میراتھون اور سائیکلنگ ریس میں حصہ لیا — وہ بھی ماضی میں شدید چوٹوں اور صحت کے مسائل کے باوجود جن سے اکثر لوگ ہمت ہار جاتے ہیں۔

محمود الخطیب کی کہانی گھٹنوں کے دائمی درد سے شروع ہو کر آئندہ سال 2 نومبر 2025 کو ترکی میں ہونے والی "آئرن مین 70.3” ریس کے اسٹارٹ لائن تک جا پہنچی۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ ذہنی طاقت جسمانی حدود سے کہیں زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ "میں نے سات سال کی عمر میں ٹینس کھیلنا شروع کیا تھا، والد نے اردن میں تربیت دی۔ مگر یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد میں نے ورزش چھوڑ دی کیونکہ گھٹنوں میں درد کے باعث دوڑنا ناممکن لگتا تھا۔”

یو اے ای منتقل ہونے کے بعد بطور پروجیکٹ مینیجر ان کی مصروف زندگی نے کھیلوں کے لیے وقت نہ چھوڑا۔ وزن 67 سے بڑھ کر 100 کلو ہو گیا اور جینیاتی وجوہات کی بنا پر کولیسٹرول بھی خطرناک حد تک بڑھ گیا۔ "ڈاکٹر نے کہا کہ اب ساری زندگی دوا لینی پڑے گی۔”

اسی دوران الخطیب نے خود اپنی غذا کا ایک منصوبہ تیار کیا جسے وہ مذاقاً "محمود ڈائٹ” کہتے ہیں۔ اس ڈائٹ سے انہوں نے ڈھائی ماہ میں وزن 100 سے کم کر کے 77 کلو کر لیا۔ مگر 2017 میں کرسمس ایو کے موقع پر بچوں کے ساتھ فٹبال کھیلتے ہوئے ٹخنہ ٹوٹ گیا، جس میں سرجری کے بعد دو فولادی پلیٹیں لگائی گئیں۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ دوبارہ کھیلنا مشکل ہوگا۔ ایک سال سے زیادہ وہ ٹریننگ نہ کر سکے۔

وبا کے دنوں میں ان کا وزن دوبارہ 96 کلو تک پہنچ گیا، مگر انہوں نے پھر خود کو سنبھالا۔ تین ماہ میں 23 کلو وزن کم کیا اور کہا، "میں اپنے جسم کو جانتا ہوں، مجھے پتہ ہے اسے کیسے قابو میں رکھنا ہے۔”

اس نظم و ضبط نے انہیں دوبارہ مقابلے کے جذبے سے بھر دیا۔ انہوں نے "ایڈی ڈاس رنرز” اور "ڈریگن بوٹ” ٹیم میں شمولیت اختیار کی، ہفتے میں چھ دن ٹریننگ شروع کی۔ کچھ ہی عرصے میں ان کا 5 کلومیٹر کا وقت 24 منٹ تک آ گیا۔ راس الخیمہ میں اپنی پہلی ہاف میراتھون 2 گھنٹے 15 منٹ میں مکمل کرنے کے بعد اگلے سال انہوں نے یہی فاصلہ 1 گھنٹہ 58 منٹ میں طے کیا۔ وہ اپنی عمر کے گروپ میں متعدد دوڑوں میں اعزازات حاصل کرنے لگے۔

بعدازاں انہوں نے ٹرائیتھلون میں حصہ لینا شروع کیا اور عالمی مقابلوں میں ابوظبی میں اولمپک فاصلہ بھی مکمل کیا۔ تاہم اپریل میں سر بنی یاس چیلنج کے دوران ایک خطرناک حادثہ پیش آیا، جب وہ 87ویں کلومیٹر پر سائیکل کے توازن کھو بیٹھے۔ ہاتھ اور ٹانگ پر گہری خراشیں آئیں اور ہونٹ پھٹ گئے، جلد کو ٹھیک ہونے میں تین ماہ لگے۔

ایک ماہ بعد جب وہ 21 کلومیٹر کی کمیونٹی دوڑ میں شریک تھے تو دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر تیز ہو گئی۔ ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ ایک شریان مکمل طور پر بند ہے، اور دو دن بعد انہیں دل کا دورہ پڑا۔ "ڈاکٹروں نے تین اسٹنٹ لگائے،” انہوں نے بتایا۔

لیکن محض چھ ہفتے بعد الخطیب نے 230 کلومیٹر دوڑ لگا دی۔ "میں نے پانچ گھنٹے میں 44 کلومیٹر نان اسٹاپ دوڑ لگائی،” انہوں نے بتایا۔ ستمبر میں انہوں نے اردن کے شہر پترا میں 25 کلومیٹر کی الٹرا ہاف ڈیزرٹ میراتھون میں بھی حصہ لیا اور اب وہ نومبر میں اپنے پہلے آئرن مین 70.3 کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا، "جب میں نے دوبارہ دوڑنا شروع کیا تو ڈاکٹر نے کہا آرام سے چلنا، مگر میں نے طے کیا کہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر واپس آؤں گا۔ میرا ہدف 2025 میں آئرن مین 70.3 مکمل کرنا ہے۔ میرا نعرہ ہمیشہ یہی رہے گا: کچھ بھی ناممکن نہیں، عمر صرف ایک عدد ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button