
خلیج اردو
دبئی کے حکمران، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ایمریٹس ایئرلائنز کے قیام کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر اسے ’’قومی فخر‘‘ قرار دیتے ہوئے مبارکباد دی ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں شیخ محمد بن راشد نے عربی زبان میں لکھا: ’’چالیس سال قبل، 25 اکتوبر 1985 کو ایمریٹس ایئرلائنز کی پہلی پرواز روانہ ہوئی، جو اپنے ساتھ ہماری اُن عظیم اُمنگوں کو لے کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’آج ایمریٹس دنیا کی نمایاں ترین ایئرلائنز میں شامل ہے جو ہمیں براہِ راست 152 شہروں سے جوڑتی ہے، اور لاکھوں لوگوں کو اُن کے خوابوں اور اُمنگوں سمیت دبئی اور دنیا کے دیگر حصوں تک پہنچا رہی ہے۔‘‘
شیخ محمد بن راشد نے بتایا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں ایمریٹس ایئرلائنز نے دنیا بھر میں 860 ملین سے زائد مسافروں کو مختلف براعظموں کے درمیان سفر کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج ایمریٹس ہماری قومی شان، ترقی کے سفر کا اہم محرک، اور دنیا کی سب سے مؤثر ایئرلائنز میں سے ایک بن چکی ہے۔‘‘
انہوں نے ایمریٹس ایئرلائنز کے چیئرمین و چیف ایگزیکٹو شیخ احمد بن سعید المکتوم اور ان کی ایک لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل ٹیم کا شکریہ ادا کیا جو دن رات محنت کر کے ایمریٹس کو ایک بے مثال اماراتی کامیابی کی علامت بنائے ہوئے ہیں۔
ایمریٹس ایئرلائنز کے قیام سے قبل بحرین کی گلف ایئر دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر خدمات فراہم کرتی تھی۔ ایمریٹس کا آغاز 10 ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری سے ہوا، جب کہ پہلی پرواز 25 اکتوبر 1985 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) کے دو ویٹ لیز جہازوں کے ساتھ روانہ ہوئی— ایک بوئنگ 737 کراچی کے لیے اور ایک ایئربس 300 ممبئی کے لیے۔
شیخ احمد بن سعید المکتوم نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ’’جب حکومت نے 40 سال قبل ایمریٹس قائم کی اور ڈی این اے ٹی اے کی استعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا، تو ہمارا واضح مقصد تھا — اپنے کام میں بہترین بننا اور دبئی، اپنے شراکت داروں اور سروس حاصل کرنے والے معاشروں کے لیے حقیقی قدر پیدا کرنا۔‘‘
مارچ 2025 کے اختتام تک ایمریٹس کے بیڑے میں 260 طیارے شامل ہیں، جو 85 سے زائد ممالک کے 160 سے زیادہ مقامات تک پرواز کرتے ہیں۔ اس کا اوسط فلیٹ ایج 10.7 سال ہے، جس میں بوئنگ 777، ایئربس A380 اور ایئربس A350 طیارے شامل ہیں، جبکہ مزید 300 سے زیادہ طیارے آرڈر پر ہیں۔







