
خلیج اردو
دبئی: سونا خریدنے والے افراد کے لیے دبئی اب بھی بھارت کے مقابلے میں بہتر قیمتیں پیش کر رہا ہے، حالانکہ دونوں ممالک عالمی سونے کی قیمتوں کے ایک ہی بینچ مارک کی پیروی کرتے ہیں۔ فرق عالمی نرخ میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ ٹیکس، درآمدی ڈیوٹیز اور "میِکنگ چارجز” دونوں منڈیوں میں کس طرح لاگو کیے جاتے ہیں۔
کینز جیولز کے منیجنگ ڈائریکٹر انیل دھانک کے مطابق “جی ہاں، دبئی میں سونے کی قیمتیں عام طور پر بھارت کے مقابلے میں کم ہوتی ہیں۔ دبئی ایک عالمی گولڈ ٹریڈنگ حب ہے جہاں دنیا بھر سے سونا درآمد کیا جاتا ہے، جبکہ اس پر درآمدی ڈیوٹی نہ ہونے کے برابر ہے اور بلین پر کوئی سیلز ٹیکس نہیں۔ بھارت میں سونے پر زیادہ درآمدی ڈیوٹی اور مقامی ٹیکسز عائد ہوتے ہیں جو قیمت میں اضافہ کرتے ہیں۔”
دبئی کی حیثیت ایک عالمی سونا تجارت کے مرکز کے طور پر اسے ساختی برتری فراہم کرتی ہے۔ خریداروں کو یہاں مختلف ڈیزائنز اور سخت معیارِ خالصت میں بھی فائدہ ملتا ہے۔ انیل دھانک نے مزید کہا، “بھارت میں زیادہ تر زیورات مقامی سطح پر تیار کیے جاتے ہیں، اس لیے ڈیزائن عموماً روایتی ہوتے ہیں، جبکہ دبئی میں اطالوی، ترک، سنگاپوری، عربی اور بھارتی ڈیزائن ایک ہی جگہ دستیاب ہوتے ہیں۔ یہی شفاف قیمتیں، عالمی تنوع اور ضمانتی خالصت دبئی کو دنیا بھر کے خریداروں کے لیے پسندیدہ منزل بناتی ہے۔”
ماہرین کے مطابق دبئی اور بھارت دونوں میں عالمی سونے کی قیمت ایک جیسی ہوتی ہے، تاہم فرق اضافی چارجز میں ہے۔ لیالی جیولرز کے مینیجنگ ڈائریکٹر انوراگ سنہا کے مطابق “اصل فرق بنیادی سونے کی قیمت میں نہیں بلکہ ان اضافی لاگتوں میں ہے جو آخر میں شامل ہوتی ہیں۔”
بھارت میں درآمدی ڈیوٹیز اور جی ایس ٹی (Goods and Services Tax) قیمت بڑھا دیتے ہیں، جب کہ دبئی میں نہ جی ایس ٹی ہے اور نہ زیادہ درآمدی ڈیوٹی، جس کی وجہ سے قیمتیں عالمی نرخ کے قریب رہتی ہیں۔ بفلہ جیولرز کے چیئرمین رمیش وورا نے کہا، “یو اے ای میں مسابقتی مارکیٹ اور شفاف ریٹ سسٹم سونا خریداروں کے لیے اضافی فائدہ ہے۔ میکنگ چارجز کم اور قابلِ گفت و شنید ہوتے ہیں۔ دبئی میں لوگ بہتر قیمت، ڈیزائن کی وسیع اقسام اور خالصت کی ضمانت کے باعث سونا خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔”







