متحدہ عرب امارات

حمل کے دوران بریسٹ کینسر کی تشخیص، بروقت اسکریننگ نے اماراتی ماں کی جان بچالی

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی رہائشی 40 سالہ مریم راشد الحبسی کو اس وقت بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی جب وہ اپنے آٹھویں بچے کے ساتھ 29 ہفتے کی حاملہ تھیں۔ ابتدا میں انہوں نے سوجن کو حمل سے منسلک ایک عام علامت سمجھا، مگر بعد میں پتا چلا کہ انہیں آٹھ سینٹی میٹر لمبا *انویسیو ڈکٹل کارسینوما* لاحق ہے جو لمف نوڈز تک پھیل چکا تھا۔

مریم کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ ان کے لیے بہت صدمے کا باعث تھا لیکن انہوں نے اللہ پر بھروسہ رکھا اور ان کے اہلِ خانہ نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا۔

ڈاکٹروں کے لیے یہ ایک نازک مرحلہ تھا کہ کس طرح کینسر کا علاج کیا جائے اور ساتھ ہی ماں اور بچے کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ برجل کینسر انسٹی ٹیوٹ میں آنکولوجی، زچگی، فیٹل میڈیسن اور گائناکالوجی کے ماہرین پر مشتمل ٹیم نے مل کر ایک محتاط علاجی منصوبہ تیار کیا۔ چونکہ حمل کے دوران ریڈیولوجی محدود تھی، اس لیے تشخیص کے لیے الٹراساؤنڈ اور کم سے کم شعاعوں والے اسکینز پر انحصار کیا گیا۔

ڈاکٹر سونیا اوٹسمین کے مطابق مریم کا علاج حمل کے آخری ہفتوں میں کیموتھراپی سے شروع کیا گیا، جو محفوظ تصور کی جاتی ہے۔ بچے کی صحت پر مسلسل نظر رکھی گئی، اور 35 ویں ہفتے میں مریم نے 2.2 کلوگرام وزنی صحت مند بچے کو جنم دیا۔ دو ہفتے بعد انہوں نے مزید طاقتور کیموتھراپی شروع کی، جس کے بعد ماسٹیکٹومی اور ریڈی ایشن تھراپی کی گئی۔

کینسر کے دوبارہ ہونے کے خدشے کو کم کرنے کے لیے مریم کو دس سالہ ہارمون تھراپی اور دو سالہ ٹارگٹڈ میڈیسن تجویز کی گئی، ساتھ ہی *ابیما سائکلب* دوا اور اووری سسپریشن تھراپی بھی شامل تھی تاکہ ہارمون پیداوار کو روکا جا سکے۔ ہڈیوں کے تحفظ کے لیے ہر چھ ماہ بعد *پرو لیا* انجیکشن بھی تجویز کیے گئے۔

مریم نے بتایا کہ سرجری کے بعد وہ ڈپریشن اور جسمانی تبدیلیوں کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں، مگر رہنمائی اور ایمان نے انہیں پھر سے حوصلہ دیا۔ ان کے مطابق بروقت جانچ زندگی بچا سکتی ہے، اس لیے ہر عورت کو اسکریننگ کو معمول بنانا چاہیے۔

بریسٹ کینسر آگاہی کے مہینے کے اختتام پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی تشخیص ہی زندگی بچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، کیونکہ صرف پانچ فیصد کیسز موروثی ہوتے ہیں، جبکہ 95 فیصد خواتین کو بغیر خاندانی تاریخ کے یہ مرض لاحق ہوتا ہے۔

اسی اسپتال میں ایک اور مریضہ، موزه الشحی، جنہیں چھ بچوں کی ماں ہیں، گھٹنے کے درد کی شکایت کے ساتھ آئیں۔ ابتدا میں خیال کیا گیا کہ یہ پٹھوں کا مسئلہ ہے، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ درد ہڈیوں تک پھیلے بریسٹ کینسر کی علامت ہے۔

ڈاکٹر سونیا کے مطابق موزہ میں *HER2 پازیٹو انویسیو ڈکٹل کارسینوما* کی تشخیص ہوئی جو پھیپھڑوں، کھوپڑی اور ہڈیوں تک پھیل چکا تھا۔ انہیں ٹارگٹڈ ادویات *پرٹوزوماب* اور *ٹراسٹوزوماب* کے ساتھ کیموتھراپی دی گئی، جس کے بعد سات ماہ میں ان کے اسکینز نے مکمل صحت یابی ظاہر کی۔ اب وہ *فیزگو* انجیکشن کے ذریعے اپنا علاج جاری رکھے ہوئے ہیں، جو صرف دس منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔

موزہ الشحی کا کہنا تھا کہ "جب ڈاکٹر نے کہا کہ میں کینسر فری ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ایمان اور زندگی سے محبت نے مجھے سب سے مشکل وقت میں حوصلہ دیا۔”

انہوں نے دیگر خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اسکریننگ میں تاخیر نہ کریں، کیونکہ ابتدائی تشخیص ہی زندگی بچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button