متحدہ عرب امارات

دبئی ایئرپورٹ سے ہوٹل اور مال تک فلائنگ ٹیکسی چند منٹوں میں پہنچائے گی مسافروں کو

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک بڑا انقلاب متوقع ہے، جہاں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DXB) سے اڑنے والی فلائنگ ٹیکسیاں مسافروں کو صرف چند منٹوں میں ہوٹلوں اور شاپنگ مالز تک پہنچا سکیں گی۔ جوبی ایوی ایشن کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ورٹی پورٹ (DXV) کا افتتاح آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے، جو ملک کا پہلا فلائنگ ٹیکسی اسٹیشن ہوگا۔

جوبی ایوی ایشن کے یو اے ای جنرل منیجر انتھونی ال خوری نے بتایا کہ دبئی ایئرپورٹ سے مدینت جمیرہ یا برج العرب تک فلائنگ ٹیکسی کے ذریعے صرف آٹھ منٹ میں پہنچا جا سکے گا، جب کہ کار کے ذریعے یہی سفر دن کے اوقات میں تقریباً 45 منٹ لیتا ہے۔ ان کے مطابق DXV منصوبے پر تعمیراتی کام شیڈول کے مطابق جاری ہے اور یہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں آپریشنل ہوگا۔

ورٹی پورٹس ایسے مخصوص مقامات ہیں جہاں فلائنگ ٹیکسیاں یا الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (eVTOL) گاڑیاں لینڈنگ، ٹیک آف اور سروسنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ DXV کے علاوہ، اسکائی پورٹس، دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) اور جوبی ایوی ایشن کے اشتراک سے مزید تین مقامات پر ایسے ورٹی پورٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

انتھونی ال خوری نے کہا کہ چونکہ ورٹی پورٹس کی تعمیر میں بھاری سرمایہ درکار ہے، اس لیے ایک مؤثر حل یہ ہے کہ ہوٹلوں، اسپتالوں اور مالز میں پہلے سے موجود ہیلی پیڈز کو استعمال کے قابل بنایا جائے تاکہ وہاں سے فلائنگ ٹیکسیاں لینڈ یا ٹیک آف کر سکیں۔ ان کے مطابق دبئی بھر میں 30 سے زائد ہیلی پیڈز ایسے ہیں جنہیں ہیلی کاپٹرز اور فلائنگ ٹیکسیوں دونوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یو اے ای سول ایوی ایشن اتھارٹی (GCAA) نے جولائی میں ایسا ریگولیٹری فریم ورک جاری کیا جو ہیلی کاپٹروں اور فلائنگ ٹیکسیوں کو ایک ہی انفراسٹرکچر پر بیک وقت آپریشن کی اجازت دیتا ہے۔ ال خوری کے مطابق اس پیش رفت سے دبئی کے مختلف علاقوں سمیت دیگر امارات تک بھی فلائنگ ٹیکسیوں کی رسائی ممکن ہوگی، جس سے ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔

گزشتہ ماہ جوبی ایوی ایشن نے راس الخیمہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RAKTA) اور اسکائی پورٹس کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت 2027 کی پہلی ششماہی میں راس الخیمہ میں مسافر ایئر ٹیکسی سروس شروع کی جائے گی۔ اس منصوبے کے بعد دبئی سے راس الخیمہ تک کا فضائی سفر صرف 15 منٹ میں مکمل ہو گا جو زمینی راستے سے ایک گھنٹے سے زائد میں طے ہوتا ہے۔

انتھونی ال خوری نے بتایا کہ ہیلی پیڈز کو فلائنگ ٹیکسیوں کے لیے تیار کرنے میں معمولی تبدیلیاں درکار ہوں گی، جیسے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا، حفاظتی نشانات لگانا، چارجنگ اسٹیشنز کی تنصیب اور بیٹری سے متعلق خصوصی فائر سیفٹی سسٹم کا اضافہ۔ انہوں نے کہا کہ فلائنگ ٹیکسیاں کم جگہ میں لینڈنگ اور ٹیک آف کر سکتی ہیں اور ان کے ٹیسٹ فلائٹس دبئی-العین روڈ پر جوبی کے مارگھم ٹیسٹ فسیلٹی میں جاری ہیں۔

ال خوری نے بتایا کہ ہر فلائنگ ٹیکسی میں چھ پروپیلرز اور متعدد بیک اپ سسٹمز موجود ہیں تاکہ کسی بھی تکنیکی خرابی کی صورت میں پرواز محفوظ رہے۔ فلائنگ ٹیکسیاں تربیت یافتہ اور سرٹیفائیڈ پائلٹس کے ذریعے چلائی جائیں گی۔

دبئی ایئرپورٹس کے سی ای او پال گرفِتھس نے فلائنگ ٹیکسیوں کو دبئی میں ٹرانسپورٹ کے نظام میں انقلاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایئرپورٹ سے منزل تک سفر کے انداز کو یکسر بدل دیں گی اور شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو نمایاں طور پر کم کریں گی۔

انتھونی ال خوری نے کہا کہ تجارتی آپریشن کے آغاز کے لیے جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کی تصدیق کا عمل جاری ہے اور توقع ہے کہ اگلے سال فلائنگ ٹیکسیوں کی سروس باضابطہ طور پر شروع ہو جائے گی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button