متحدہ عرب امارات

خواتین کاروباری شخصیات کے لیے دنیا میں سب سے موزوں ملک متحدہ عرب امارات قرار

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کو مسلسل چوتھے سال دنیا میں خواتین کاروباری شخصیات کے لیے بہترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق، امارات نے خواتین کے لیے کاروباری مواقع، حکومتی معاونت، اور جدید کاروباری ماحول کے اعتبار سے سب ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

خلیج ٹائمز کے زیرِ اہتمام "وی دی ویمن” ایونٹ میں خطاب کرتے ہوئے انسیاڈ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر کیارا اسپینا نے کہا کہ ’’دنیا میں خواتین کے کاروبار کے لیے متحدہ عرب امارات سے بہتر جگہ کوئی نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سال سے یو اے ای مسلسل خواتین انٹرپرینیورشپ کے شعبے میں پہلے نمبر پر ہے، اور یہاں وزیرِ انٹرپرینیورشپ بھی ایک خاتون ہیں۔

ڈاکٹر اسپینا نے بتایا کہ عالمی سطح پر خواتین مردوں کے برابر رفتار سے کاروبار شروع کر رہی ہیں، لیکن سرمایہ کاری کے حصول میں شدید تفاوت برقرار ہے۔ ان کے مطابق، ’’ہر سال دنیا بھر میں خواتین مردوں جتنی ہی رفتار سے کاروبار شروع کرتی ہیں، لیکن پیشہ ور سرمایہ کاروں کی مجموعی فنڈنگ میں سے صرف 2 فیصد خواتین کاروباری شخصیات تک پہنچتی ہے۔‘‘

انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون وکیل نے ’’جِم اِن اے وین‘‘ کے نام سے کاروبار شروع کیا مگر سرمایہ کاروں نے دلچسپی نہیں لی، جبکہ اسی خیال کو ایک مرد نے پیش کیا تو اسے میڈیا کی توجہ اور سرمایہ دونوں مل گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کوئی الگ واقعہ نہیں، سرمایہ کار خواتین سے ایسے سوالات پوچھتے ہیں جو انہیں دفاعی پوزیشن پر لے آتے ہیں، جس سے ان کے لیے فنڈ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر اسپینا نے مزید کہا کہ خواتین کو عموماً پیشہ ورانہ نیٹ ورک اور سینئر عہدوں پر رسائی میں بھی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے۔ ’’بیشتر مواقع نیٹ ورکنگ کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں، اس لیے خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنا نیٹ ورک خود بنائیں اور اپنی حکمت عملی خود طے کریں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خواتین کے نیٹ ورک عموماً چھوٹے مگر گہرے تعلقات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ’’یہی خواتین کی طاقت ہے، کیونکہ ایسے تعلقات میں اعتماد زیادہ ہوتا ہے اور دیرپا کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر اسپینا نے کہا کہ ’’رکاوٹوں کے باوجود، متحدہ عرب امارات خواتین کے لیے کاروبار کا بہترین مرکز ہے۔ یہاں نہ صرف مضبوط انفراسٹرکچر موجود ہے بلکہ خواتین کی قیادت، کاروباری ترقی، اور اختراع (innovation) کے فروغ کے لیے حکومت کا عملی عزم بھی نمایاں ہے۔‘‘

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button