
خلیج اردو
دبئی: 2005 میں دبئی میں سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید، محفوظ اور مربوط بنانے کے مقصد سے قائم کی جانے والی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے اپنے قیام کے 20 سال مکمل کر لیے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں آر ٹی اے نے دبئی کو عالمی معیار کے ٹرانسپورٹ ماڈل میں تبدیل کر دیا ہے۔
آر ٹی اے نے اپنے قیام کے بعد سے نہ صرف سڑکوں کے نظام میں بہتری لائی بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے تمام ذرائع کو منظم انداز میں مربوط کیا۔ 2005 میں اپنی ابتدا سے لے کر آج تک آر ٹی اے نے عوامی سہولت کے لیے کئی انقلابی اقدامات کیے جنہوں نے دبئی کو جدید ترین شہری نقل و حمل کے لحاظ سے دنیا کے ممتاز شہروں میں شامل کر دیا۔
2007 میں آر ٹی اے نے آرٹیکولیٹڈ بسیں متعارف کرائیں، اسی سال سلیک نظام اور خواتین کے لیے خصوصی پنک ٹیکسیاں شروع کی گئیں۔ 2008 میں ڈبل ڈیکر بسیں سڑکوں پر آئیں، جبکہ 2009 میں پام جمیرا مونو ریل اور اسی سال 9 ستمبر کو دبئی میٹرو کا آغاز ہوا جو دبئی کے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوا۔ اسی سال نول کارڈ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا۔
2011 میں میٹرو کی گرین لائن شروع کی گئی جس نے شہر کے مختلف تجارتی اور رہائشی علاقوں کو جوڑ دیا، جبکہ 2012 میں دبئی میٹرو دنیا کا سب سے طویل ڈرائیور لیس نیٹ ورک قرار پایا۔ 2014 میں دبئی ٹرام کا آغاز ہوا، 2016 میں دبئی واٹر کینال کا افتتاح ہوا، اور 2017 میں خودکار فلائنگ ٹیکسی کے تجرباتی پرواز نے دنیا بھر میں دبئی کا نام روشن کیا۔
ماحولیاتی طور پر محفوظ ہائبرڈ ابرا 2018 میں متعارف ہوئی، جبکہ 2022 میں انیفینیٹی برج ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ 2024 میں بس اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی گئی اور 2025 میں الیکٹرک بسوں کے آزمائشی آپریشن کے ساتھ فلائنگ ٹیکسی کا پہلا کامیاب تجربہ بھی کیا گیا۔
اعدادوشمار کے مطابق آر ٹی اے کے 20 سالہ سفر میں روزانہ 20 لاکھ سے زائد افراد دبئی کے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ دبئی میں 25 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں، 100 کلومیٹر سے زیادہ میٹرو و ٹرام نیٹ ورک، 560 کلومیٹر سائیکلنگ ٹریکس، 1,050 پلوں اور سرنگوں اور 177 پیدل گزرگاہوں کا جال بچھایا جا چکا ہے۔
آر ٹی اے نے گزشتہ دو دہائیوں میں دبئی کی مجموعی معیشت میں 156 ارب درہم کا حصہ ڈالا، جب کہ ریئل اسٹیٹ کی قدر میں 158 ارب درہم کا اضافہ ہوا۔ دبئی کے مستقبل کے وژن کے مطابق، آر ٹی اے 2050 تک صفر اخراج والے ٹرانسپورٹ سسٹم کے ہدف کی طرف گامزن ہے۔







