متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں وزٹ ویزا کے نئے اصول: خاندان یا دوستوں کو بلانے کے لیے کم از کم تنخواہ کی شرط مقرر

خلیج اردو
ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات نے وزٹ ویزا کے قوانین میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے شہریوں اور رہائشیوں کے لیے خاندان یا دوستوں کو بلانے کے لیے کم از کم ماہانہ آمدنی کی شرط عائد کردی ہے۔ نئے اصول کے مطابق اب اسپانسر کی آمدنی کی بنیاد پر ہی وزٹ ویزا جاری کیا جائے گا۔

فیڈرل اتھارٹی فار آئیڈینٹیٹی اینڈ سٹیزن شپ، کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی (ICP) کے مطابق اسپانسر اپنے رشتہ داروں کو تیسرے درجے تک یا دوستوں کو وزٹ کے لیے بلا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی تنخواہ مقررہ حد کے مطابق ہو۔

پہلے درجے کے رشتہ داروں (والد، والدہ، شریک حیات، بیٹا، بیٹی) کے لیے اسپانسر کی کم از کم تنخواہ 4 ہزار درہم مقرر کی گئی ہے۔
دوسرے درجے کے رشتہ داروں (بھائی، بہن، دادا، دادی، نانا، نانی، پوتے، نواسے) کے لیے کم از کم آمدنی 8 ہزار درہم ہوگی۔
تیسرے درجے کے رشتہ داروں (چچا، خالہ، ماموں، پھوپھی اور کزنز) کے لیے بھی اسپانسر کی کم از کم آمدنی 8 ہزار درہم لازمی ہے۔
جبکہ غیر رشتہ دار یعنی دوستوں کو اسپانسر کرنے کے لیے کم از کم ماہانہ آمدنی 15 ہزار درہم مقرر کی گئی ہے۔

درخواست دہندگان کو کم از کم چھ ماہ کے لیے درست پاسپورٹ اور واپسی کا ٹکٹ فراہم کرنا ہوگا۔

یہ شرائط وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہیں جن کا مقصد شفافیت بڑھانا، معیشت کو متنوع بنانا اور ہنرمند افراد کو یو اے ای کی طرف راغب کرنا ہے۔

نئے ضوابط میں وزٹ ویزا کی مختلف مدتوں اور ان کی توسیع کے اختیارات بھی واضح کیے گئے ہیں، جس سے درخواست کے عمل کو مزید آسان بنایا گیا ہے۔

چار نئی وزٹ ویزا کیٹگریز بھی متعارف کرائی گئی ہیں جو مصنوعی ذہانت، تفریح، ایونٹس، کروز شپ اور لیزر ویسلز سے متعلق ماہرین کے لیے مخصوص ہیں۔

ان اصلاحات کے تحت ایک سالہ انسانی بنیادوں پر رہائش کی اجازت بھی دی جائے گی جس میں تجدید کی سہولت موجود ہوگی۔ اسی طرح غیر ملکی بیوہ یا مطلقہ خواتین کو بھی مخصوص شرائط کے تحت اسپانسر کے بغیر اقامت حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

مزید برآں، بزنس ایکسپلوریشن ویزا کے لیے مالی حیثیت یا کسی بیرون ملک کمپنی میں شراکت داری کا ثبوت درکار ہوگا، جب کہ بیرونی ٹرک ڈرائیورز کو بھی سنگل یا ملٹی پل ویزا جاری کیا جا سکے گا بشرطیکہ وہ کسی شپنگ یا ٹرانسپورٹ کمپنی کے اسپانسر ہوں۔

فیصلے کے بارے میں ڈائریکٹر جنرل ICP میجر جنرل سہیل سعید الخیلی نے کہا کہ نئے ویزا زمروں اور شرائط میں تبدیلیاں مقامی، علاقائی اور عالمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات معیارِ زندگی بہتر بنانے، تجارت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو فروغ دینے اور یو اے ای کی عالمی مسابقتی حیثیت مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button