
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں ذہنی صحت اب کوئی ممنوع موضوع نہیں رہی۔ ماضی میں جہاں ڈپریشن، تناؤ یا ذہنی دباؤ کو ایمان کی کمزوری یا کردار کی خامی سمجھا جاتا تھا، اب وہاں لوگ اسے ایک حقیقی اور قابلِ علاج مسئلہ ماننے لگے ہیں۔
سیگنا ہیلتھ کیئر کے 2025 کے عالمی سروے کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 27 فیصد افراد نے ذہنی سکون کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے، جب کہ جسمانی صحت دوسرے نمبر پر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یو اے ای میں ذہنی صحت کا اشاریہ 64 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو 2024 کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ اور عالمی اوسط سے 21 فیصد بلند ہے۔
تاہم سروے کے مطابق 80 فیصد شرکاء نے اعتراف کیا کہ وہ اکثر ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں، 76 فیصد معمولی باتوں پر ضرورت سے زیادہ ردعمل دیتے ہیں، جب کہ 79 فیصد خواتین نے بتایا کہ وہ روزمرہ کے کام شروع کرنے میں دشواری محسوس کرتی ہیں۔ نوجوانوں میں یہ مسئلہ سب سے زیادہ پایا گیا، خاص طور پر 18 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں۔
دبئی کے ماہر لائف کوچ گِرش اے ہیمنانی کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جذباتی کمزوری ایمان کی کمزوری ہے، لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔ ان کے مطابق، "ایمان درد سے فرار کا ذریعہ نہیں بلکہ سمجھ بوجھ کو گہرا کرنے کا راستہ ہے۔ جب ہم اپنے جذبات کو دبانے کے بجائے قبول کرتے ہیں تو ہم ایمان کو کھونے کے بجائے دوبارہ دریافت کرتے ہیں۔”
انٹرنیشنل ماڈرن ہاسپٹل دبئی کے ماہر نفسیات ڈاکٹر شاجو جارج کے مطابق، ماضی میں لوگ جسمانی صحت پر زیادہ توجہ دیتے تھے اور ذہنی صحت کو نظر انداز کیا جاتا تھا، تاہم اب حکومت اور اسپتالوں کی آگاہی مہمات نے لوگوں کا رویہ بدل دیا ہے۔ ان کے مطابق، مرد خصوصاً اپنے جذبات کو ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں، اس لیے مذہبی اور سماجی رہنماؤں کے تعاون سے یہ پیغام عام کیا جا رہا ہے کہ مدد لینا ایمان کے خلاف نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اب دباؤ یا تھکن کو کمزوری نہیں بلکہ ذہانت سے نمٹنے کا عمل سمجھا جاتا ہے۔ دبئی کے فنانس سیکٹر سے تعلق رکھنے والے 41 سالہ روی راؤ نے کہا، "ہم سمجھتے تھے کہ دباؤ کام کا حصہ ہے، لیکن اب میں نے سیکھا ہے کہ ذہنی وقفہ لینا، دعا، میڈیٹیشن یا تھراپی کرنا کمزوری نہیں بلکہ خود کی حفاظت ہے۔”
اسی طرح 31 سالہ مصری باشندہ عائشہ حسن نے بتایا، "میں پہلے صرف جسمانی فٹنس پر توجہ دیتی تھی، لیکن اب سمجھ آئی ہے کہ اندرونی سکون کے بغیر بیرونی خوشی ممکن نہیں۔ میں نے جرنلنگ اور مائنڈفلنیس سیشنز شروع کیے ہیں، جس سے زندگی میں نیا توازن آیا ہے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں ذہنی صحت کے حوالے سے مثبت تبدیلی آ رہی ہے، اور معاشرہ آہستہ آہستہ اس احساس کو قبول کر رہا ہے کہ ڈپریشن ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ ایک انسانی تجربہ ہے جسے سمجھنے، سننے اور علاج کی ضرورت ہے۔







