متحدہ عرب امارات

خبر کا عنوان: اب موبائل فون ہی پاسپورٹ — مسافر ایپ کے ذریعے فلائٹ بکنگ، چیک اِن اور امیگریشن مکمل کر رہے ہیں

خلیج اردو
دبئی: بین الاقوامی ہوابازی تنظیم آئی اے ٹی اے (IATA) کی نئی رپورٹ کے مطابق فضائی سفر اب بڑی حد تک اسمارٹ فون پر منتقل ہو چکا ہے۔ "2025 گلوبل پیسنجر سروے” میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر کے مسافر اب پروازوں کی بکنگ، ادائیگی، چیک اِن، اور بیگیج ٹیگنگ تک کے تمام مراحل اپنے موبائل فون کے ذریعے انجام دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 54 فیصد مسافر ایئرلائنز سے براہِ راست رابطہ کرنا پسند کرتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر موبائل ایپس کے ذریعے سفر کا انتظام کرتے ہیں۔ اگرچہ 31 فیصد مسافر اب بھی ایئرلائن ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ شرح گزشتہ سال کے 37 فیصد سے کم ہو گئی ہے۔ موبائل ایپس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2024 میں 16 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 19 فیصد ہو گیا، خصوصاً نوجوان مسافروں میں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 78 فیصد مسافر چاہتے ہیں کہ ایک ہی اسمارٹ فون پر ڈیجیٹل پاسپورٹ، ادائیگی اور لائلٹی کارڈز کو یکجا کر کے مکمل سفری عمل انجام دیا جا سکے۔ ای-بیگ ٹیگ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی تیزی سے بڑھا ہے، جو گزشتہ سال 28 فیصد سے بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچ گیا۔

ادائیگی کے طریقوں میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ اگرچہ کریڈٹ کارڈ اب بھی سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں (72 فیصد)، تاہم ان کی شرح 2024 کے 79 فیصد سے کم ہوئی ہے۔ اس کے برعکس، ڈیجیٹل والٹس کا استعمال 20 فیصد سے بڑھ کر 28 فیصد اور فوری ادائیگیوں کا رجحان 6 فیصد سے بڑھ کر 8 فیصد ہو گیا ہے۔

آئی اے ٹی اے کے سینئر نائب صدر نِک کَرین نے کہا کہ "مسافر اب سفر کو بھی زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح اسمارٹ فون اور ڈیجیٹل شناخت کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، مگر اس عمل میں اعتماد اور سائبر سکیورٹی انتہائی اہم ہیں۔”

یہ سروے 200 سے زائد ممالک کے 10 ہزار سے زیادہ مسافروں کی آراء پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے مسافر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں سب سے زیادہ سرگرم ہیں، خاص طور پر ڈیجیٹل والٹس اور موبائل بیسڈ سفری شناخت کے استعمال میں۔ یہ دنیا کے سب سے زیادہ مطمئن فضائی مسافروں میں شامل ہیں، جو اطمینان کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہیں۔

بائیومیٹرک ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اب 50 فیصد مسافر کسی نہ کسی مرحلے پر چہرے کی شناخت کے نظام سے گزر چکے ہیں، جو پچھلے سال 46 فیصد تھا۔ سب سے زیادہ استعمال سیکیورٹی (44 فیصد)، ایگزٹ امیگریشن (41 فیصد) اور انٹری امیگریشن (35 فیصد) میں ہوتا ہے۔

یو اے ای میں یہ نظام پہلے ہی تیزی سے اپنایا جا چکا ہے۔ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 میں ایمریٹس ایئرلائن نے 200 سے زائد بائیومیٹرک کیمرے نصب کیے ہیں، جن کی بدولت رجسٹرڈ مسافر بغیر پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھائے چیک اِن سے بورڈنگ تک سفر کر سکتے ہیں۔ ابوظہبی کے زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں "سمارٹ ٹریول” سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جو امیگریشن کلیئرنس کا عمل صرف سات سیکنڈ میں مکمل کر سکتا ہے۔

سروے کے مطابق 85 فیصد مسافروں نے بائیومیٹرک تجربے کو مثبت قرار دیا، جبکہ 74 فیصد نے کہا کہ اگر پاسپورٹ چیک سے نجات ملے تو وہ اپنا بائیومیٹرک ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، پرائیویسی سے متعلق خدشات اب بھی موجود ہیں — 42 فیصد نے کہا کہ اگر ڈیٹا کے تحفظ کی مکمل یقین دہانی کرائی جائے تو وہ اپنا موقف بدل سکتے ہیں۔

نِک کَرین کے مطابق اگلا بڑا قدم یہ ہوگا کہ حکومتیں ڈیجیٹل پاسپورٹس جاری کریں اور ان کی بین الاقوامی سطح پر محفوظ شناخت ممکن بنائیں، تاکہ فضائی سفر مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button