متحدہ عرب امارات

ابوظبی میں اب ڈرون آپ کا طعام پہنچائے گا — طلبات کی ڈرون ڈیلیوری سروس جلد شروع ہونے کو تیار

خلیج اردو
ابوظبی — متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں بہت جلد ڈرون کے ذریعے کھانے اور گروسری کی ترسیل شروع ہونے جا رہی ہے۔ طلبات (Talabat) ایپ کے ذریعے آرڈر کیے گئے کھانے اب ڈرونز کے ذریعے مخصوص اسٹیشنز تک پہنچائے جائیں گے، جہاں سے صارفین انہیں کوڈ کے ذریعے وصول کریں گے۔

ابوظبی حکومت کے زیرِ ملکیت جدید ٹیکنالوجی ادارے K2 کے نائب صدر برائے اسٹریٹجی، ولید البلوشی کے مطابق، ’’جب آپ طلبات ایپ سے کھانا یا گروسری آرڈر کریں گے تو ڈرون طلبات کچن یا ریستوران سے اڑ کر براہِ راست ڈراپ آف اسٹیشن پر پہنچے گا، جسے ہم DOS کہتے ہیں۔‘‘

فی الحال دو ڈرونز یاس میرینا سرکٹ میں جاری ابوظبی آٹونومس ویک کے دوران DriftX نمائش میں آزمائشی پروازیں کر رہے ہیں۔ ولید البلوشی کا کہنا ہے کہ طلبات کے ساتھ باضابطہ معاہدے پر دستخط DriftX کے دوران کیے جائیں گے، جس کے بعد 45 دن کے اندر اندر باقاعدہ آپریشن شروع ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں ڈرونز شہر بھر میں قائم کیے گئے مخصوص اسٹیشنز پر کھانے پہنچائیں گے۔ گھروں یا اپارٹمنٹس تک لینڈنگ کا مرحلہ فی الحال زیرِ غور نہیں۔ صارفین کو اپنے آرڈر کے حصول کے لیے ایک QR کوڈ یا پاس ورڈ دیا جائے گا، جس سے وہ محفوظ انداز میں اپنا کھانا حاصل کر سکیں گے۔

ڈرونز کی پیکیجنگ مقامی موسم کے مطابق تیار کی گئی ہے تاکہ شدید درجہ حرارت اور نمی کے باوجود کھانا محفوظ رہے۔ موجودہ آزمائشی ڈرونز 10 سے 20 کلوگرام وزن اٹھا سکتے ہیں اور ان کی پرواز کی حد 5 سے 10 کلومیٹر ہے۔ مستقبل میں ان کی صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

K2 ادارہ اس سے قبل Noon کے ساتھ زمینی خودکار ڈیلیوری کے منصوبے پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت Noon کا ویئرہاؤس (KEZAD) سے الراحہ بیچ تک خودکار گاڑیوں کے ذریعے سامان پہنچایا جا رہا ہے۔ تاہم طلبات کے ساتھ یہ کمپنی کا پہلا فضائی ڈیلیوری منصوبہ ہوگا۔

ولید البلوشی کے مطابق، "ڈرون ڈیلیوری مستقبل کا اہم جزو بننے جا رہی ہے۔ ہم ابوظبی موبیلٹی اتھارٹی اور سول ایوی ایشن کے ساتھ ضوابط و منظوریوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ فضائی نگرانی اور سیکورٹی کے تقاضے مکمل کیے جا سکیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ خودکار نظام اب نقل و حمل کے ہر پہلو میں داخل ہو رہا ہے — ’’خواہ زمین ہو، فضا یا سمندر — روبوٹکس ہی مستقبل ہے، اور بہت جلد سب اس کے عادی ہو جائیں گے۔‘

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button