متحدہ عرب امارات

خواتین میں چھاتی کے سرطان کی آگاہی، 62 فیصد پہلی بار اسکریننگ کرانے والی مریضائیں

خلیج اردو
دبئی — متحدہ عرب امارات میں چھاتی کے سرطان کی آگاہی مہمات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، 2024 میں 2200 سے زائد خواتین نے چھاتی کے سرطان کی اسکریننگ کرائی جن میں 62 فیصد خواتین نے پہلی بار یہ معائنہ کروایا۔

طبی ماہرین کے مطابق اس رجحان میں اضافہ بڑے پیمانے پر آگاہی مہمات، موبائل یونٹس کے ذریعے سہولت کی فراہمی، بین الاقوامی تعاون اور سستی اسکریننگ پیکیجز کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

میڈ کیئر ویمن اینڈ چلڈرن اسپتال کی ماہرِ جراحی ڈاکٹر نیتا زاجی کے مطابق ہر سال اکتوبر میں قومی و نجی ادارے مل کر آگاہی مہمات چلاتے ہیں جو سوشل میڈیا، دفاتر، شاپنگ سینٹرز اور پیٹرول اسٹیشنز تک نظر آتی ہیں۔ ان مہمات نے خواتین میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عملی قدم اٹھانے کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔

ڈاکٹر زاجی کے مطابق ایک بھارتی خاتون نے پہلی بار رعایتی پیکیج سے فائدہ اٹھایا اور مطمئن ہوئیں کہ ان کا معائنہ خواتین عملے نے نجی اور آرام دہ ماحول میں کیا۔ ایک فلپائنی خاتون کے کیس میں ماموگرافی سے ابتدائی مرحلے کا گٹھان دریافت ہوئی جس کا کامیاب علاج ممکن بنایا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی خواتین خوف یا غلط فہمیوں کے باعث معائنہ نہیں کرواتیں۔ بعض خواتین سمجھتی ہیں کہ ماموگرافی تکلیف دہ عمل ہے یا صرف علامات ظاہر ہونے پر ضروری ہے، حالانکہ ابتدائی مرحلے میں سرطان کی کوئی واضح علامت نہیں ہوتی۔

برجیل کینسر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر طارق الحامد کے مطابق قومی اور نجی سطح پر شروع کی جانے والی مہمات جیسے "پنک کارواں” اور "پنک ٹرک” نے اسکریننگ کو محلوں، دفاتر اور شاپنگ مالز تک پہنچا دیا ہے۔ اس سے وہ خواتین بھی مستفید ہو رہی ہیں جو پہلے کبھی اسپتال نہیں جاتیں۔

ڈاکٹر الحامد نے اس غلط فہمی کی بھی نشاندہی کی کہ بعض خواتین سمجھتی ہیں بایوپسی سے کینسر پھیل سکتا ہے، حالانکہ یہ ایک محفوظ اور ضروری تشخیصی عمل ہے جو جلد علاج کو ممکن بناتا ہے۔

انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال دبئی کے کنسلٹنٹ آنکولوجسٹ ڈاکٹر مصطفیٰ الدالی کے مطابق پچھلے چند برسوں میں خواتین میں احتیاطی علاج کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ قومی و سماجی سطح پر جاری آگاہی مہمات، خواتین عملے کی موجودگی، اور سستی پیکیجز نے خواتین کو اعتماد بخشا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج متحدہ عرب امارات میں موبائل یونٹس، ڈیجیٹل بکنگ، اور کثیر لسانی آگاہی پروگراموں کے باعث خواتین کے لیے زندگی بچانے والی اسکریننگ تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے، اور اب اس عمل کو خوف نہیں بلکہ بااختیاری کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button