
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں عربی بولنے والے صارفین اب یوٹیوب کے ذریعے مستند طبی معلومات حاصل کر سکیں گے۔ یوٹیوب ہیلتھ کو عربی زبان میں متعارف کرا دیا گیا ہے تاکہ عرب دنیا کے افراد کو درست، قابلِ اعتماد اور باآسانی سمجھ آنے والی طبی معلومات فراہم کی جا سکیں۔
یوٹیوب نے اس اقدام کے لیے کلیولینڈ کلینک ابوظہبی اور برجل اسپتال کے ساتھ اشتراک کیا ہے تاکہ صارفین کو مستند ذرائع سے صحت سے متعلق معلومات تک رسائی ملے۔
یوٹیوب ہیلتھ کیسے کام کرتا ہے؟
جب کوئی صارف یوٹیوب پر کسی طبی موضوع کی تلاش کرتا ہے تو ایک نیا "ہیلتھ شیلف” ظاہر ہوتا ہے جو قابلِ اعتماد طبی چینلز جیسے برجل اسپتال اور کلیولینڈ کلینک ابوظہبی کے تصدیق شدہ ویڈیوز کو نمایاں کرتا ہے۔ ساتھ ہی ایک معلوماتی پینل ظاہر ہوتا ہے جو مستند ذرائع سے بنیادی معلومات فراہم کرتا ہے۔ امارات میں یہ پینل مقامی صحت حکام اور معروف اسپتالوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات دکھائے گا۔
ڈاکٹر گارتھ گراہم، سربراہ یوٹیوب ہیلتھ نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں بتایا کہ "یو اے ای میں 75 لاکھ سے زائد افراد باقاعدگی سے یوٹیوب استعمال کرتے ہیں، جبکہ سعودی عرب میں یہ تعداد 2 کروڑ سے زیادہ ہے، اس لیے ہم جانتے ہیں کہ لوگ اپنی صحت کے بارے میں مستند معلومات تلاش کر رہے ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ عربی زبان یوٹیوب ہیلتھ میں شامل کی جانے والی تازہ ترین زبان ہے، جو اب تک 11 ممالک میں دستیاب ہے۔ اس میں انگریزی، فرانسیسی، جاپانی سمیت نو دیگر زبانیں شامل ہیں۔ اس منصوبے کا آغاز متحدہ عرب امارات سے کیا گیا ہے اور آئندہ مرحلے میں اسے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ (MENA) کے دیگر ممالک تک وسعت دی جائے گی۔
مصنوعی ذہانت اور غلط طبی معلومات
مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث درست اور غلط معلومات میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یوٹیوب نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی صارف اپنی ویڈیو میں اے آئی کا استعمال ظاہر کرے اور معلومات درست ہوں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
ڈاکٹر گارتھ گراہم کے مطابق یوٹیوب کی ٹرسٹ اینڈ سیفٹی پالیسیز غلط معلومات کے خلاف یکساں طور پر لاگو ہوتی ہیں، چاہے مواد انسانی ذریعہ سے تخلیق کیا گیا ہو یا اے آئی سے۔
انہوں نے کہا کہ "ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی صورت میں نقصان دہ یا گمراہ کن معلومات شیئر نہ ہوں، اور مواد عالمی ادارہ صحت یا مقامی صحتی حکام کی ہدایات سے متصادم نہ ہو۔






