متحدہ عرب امارات

نیپال کنسرٹ میں انڈین پرچم لہرانے پر پاکستانی گلوکار طلحہ انجم تنقید کی زد میں

خلیج اردو
پاکستانی گلوکار طلحہ انجم نیپال میں اپنے کنسرٹ کے دوران انڈین پرچم لہرانے پر اپنے ملک میں بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی زد میں ہیں۔ کنسرٹ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس واقعے نے زور پکڑا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لائیو پرفارمنس کے دوران طلحہ انجم کے ہاتھ میں ایک انڈین پرچم تھا۔

طلحہ انجم نے اپنے دفاع میں کہا کہ "میرے دل میں نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ میرے آرٹ کی کوئی سرحدیں نہیں ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر انڈین پرچم لہرانے پر تنازع کھڑا ہوتا ہے تو ہوتا رہے، اور وہ دوبارہ ایسا کرنے سے نہیں رکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ میڈیا، جنگی جنون میں مبتلا حکومتوں اور ان کے پروپیگنڈا کی پرواہ نہیں کرتے۔

طلحہ انجم نے اپنے پیغام کے آخر میں کہا کہ "اردو ریپ کی کوئی سرحد نہیں اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔” ان کے دفاع میں نواب اسد جٹ نے کہا کہ کسی ملک کا پرچم لہرانا آپ کو پاکستان مخالف نہیں بناتا۔

اس واقعے پر صارفین کے متضاد ردعمل سامنے آئے، کچھ نے ان کی جرات کو سراہا اور کہا کہ وہ گہری تقسیم کے اس دور میں امن کا پیغام دے رہے ہیں، جبکہ دیگر نے ان کی جانب سے انڈیا کی حمایت پر تنقید کی۔

طلحہ انجم نے موسیقی میں اپنے سفر کے بارے میں بتایا کہ وہ اور بینڈ میں ان کے ساتھی طلحہ یونس ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے اور انہیں اردو میں شاعری اور ریپ کرنے کا شوق تھا۔ ان کا پہلا مشہور گانا "برگرِ کراچی” 2013 میں ریلیز ہوا، اور گذشتہ دہائی میں ان کے درجنوں گانے سامنے آئے۔ فروری 2025 میں سپاٹیفائی کی "گلوبل امپیکٹ لسٹ” میں ان کے 17 ہپ ہاپ گانے شامل ہوئے جبکہ 2024 میں وہ پاکستان سے سب سے زیادہ سنے جانے والے گلوکار رہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button