
خلیج اردو
ابوظبی — متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے ملک بھر کے تمام بینکوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ ذاتی قرضوں کے حصول کے لیے کم از کم تنخواہ کی وہ شرط ختم کر دی جائے جو برسوں سے زیادہ تر بینکوں میں پانچ ہزار درہم مقرر تھی۔
نئی ہدایت کے تحت اب ہر بینک اپنے داخلی اصولوں کے مطابق تنخواہ کی حد خود طے کرے گا، جس سے کم آمدنی والے افراد، نوجوانوں اور کم اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے بینکاری خدمات تک رسائی آسان ہو جائے گی، جن میں ’کیش آن ڈیمانڈ‘ جیسی سہولتیں بھی شامل ہیں۔
اس فیصلے کے بعد ملک میں مقیم تمام رہائشی — خصوصاً کم آمدنی والے کارکن — باقاعدہ بینک اکاؤنٹس کھول سکیں گے۔ یہ اکاؤنٹس مرکزی بینک کے ویج پروٹیکشن سسٹم سے منسلک ہوں گے، جس کے تحت بینکوں کو اختیار ہوگا کہ کم اجرت والے قرض داروں کی تنخواہ آنے پر اقساط خودکار طریقے سے منہا کر سکیں۔
یہ اقدام مالی شمولیت میں اضافے اور یہ یقینی بنانے کی قومی پالیسی کا حصہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ہر شخص کو محفوظ اور ریگولیٹڈ بینکاری سہولیات میسر ہوں۔







