
خلیج اردو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شاندار انداز میں استقبال کیا، جہاں اقتصادی اعلانات، فوجی معاہدوں اور گرمجوشی نے ملاقات کو تاریخی بنا دیا۔ سرکاری عشائیے کے دوران ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے سعودی عرب کو باضابطہ طور پر نان نیٹو کے بڑے اتحادی کا درجہ دے دیا ہے۔ تقریب میں کرسٹیانو رونالڈو اور ایلون مسک سمیت اہم شخصیات شریک ہوئیں، جبکہ ایف 35 طیاروں کی فلائی پاسٹ نے تقریب کو مزید شاندار بنا دیا۔
ٹرمپ نے ولی عہد کو اپنا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق سمیت مختلف شعبوں میں ان کی کاوشوں کی تعریف کی۔
اہم نکات میں ایف 35 طیاروں کی فروخت، دفاعی و جوہری معاہدہ، ایک کھرب ڈالر تک امریکی سرمایہ کاری کا اعلان اور 9/11 کے پس منظر پر ولی عہد کا مؤقف شامل رہے۔
F-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری
ٹرمپ نے سعودی عرب کو ایف 35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کی فروخت کی منظوری دے دی، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کی دفاعی برتری برقرار رہے گی۔
ابراہام معاہدوں میں شمولیت کی شرائط
ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شمولیت چاہتا ہے، تاہم فلسطینی ریاست کے لیے واضح اور قابلِ عمل راستہ ناگزیر ہے۔
امریکہ سعودی دفاعی و جوہری معاہدہ
ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک جامع دفاعی معاہدہ اور سول نیوکلیئر تعاون کو حتمی شکل دیں گے۔
سعودی عرب کو نان نیٹو بڑا اتحادی قرار
سرکاری عشائیے میں ٹرمپ نے سعودی عرب کو نان نیٹو کے بڑے اتحادی کا درجہ دے دیا، جس سے دفاعی تعاون اور ہتھیاروں تک رسائی مزید آسان ہو جائے گی۔
امریکی ٹینکوں کی خریداری
سعودی عرب نے تقریباً 300 امریکی ساختہ ٹینک خریدنے کا معاہدہ کیا ہے، جس سے دفاعی تعاون میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
خاشقجی واقعہ اور جواب
یہ محمد بن سلمان کی 2018 کے بعد پہلی وائٹ ہاؤس آمد تھی۔ ٹرمپ نے سوالات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ “ایسے واقعات ہو جاتے ہیں” جبکہ ولی عہد نے اسے “بڑا المیہ” قرار دے کر اصلاحات کا ذکر کیا۔
انسانی حقوق سے متعلق ٹرمپ کی تعریف
ٹرمپ نے ولی عہد کی انسانی حقوق کے شعبے میں “اہم بہتری” کی تعریف کی، خصوصاً خواتین اور سماجی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے۔
شاندار استقبالیہ
ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس میں خصوصی اہتمام کیا گیا، جس میں ریڈ کارپٹ، ملٹری بینڈ، گھڑ سوار گارڈ اور ایف 35 جیٹ کی فلائی پاسٹ شامل تھی۔
ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری
محمد بن سلمان نے امریکہ میں سعودی سرمایہ کاری کو 600 ارب ڈالر سے بڑھا کر ایک کھرب ڈالر کرنے کا اعلان کیا، جس کا محور اے آئی، ایرو اسپیس، ٹیکنالوجی اور جدید صنعت ہو گا۔
9/11 کے بارے میں ولی عہد کا موقف
ولی عہد نے کہا کہ اسامہ بن لادن نے جان بوجھ کر سعودی نژاد افراد کو استعمال کیا تاکہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات خراب ہوں۔







