
خلیج اردو
لندن ایک نئے ’’ٹورسٹ لیوی‘‘ یا ’’وزیٹر ٹیکس‘‘ کے نفاذ کے قریب ہے، جس کے تحت شہر میں رات گزارنے والے مسافروں سے معمولی فیس لی جا سکتی ہے۔ دبئی کے شہریوں سمیت اماراتی مسافر آئندہ سفر کی منصوبہ بندی کرتے وقت اس ممکنہ تبدیلی کو ذہن میں رکھیں، کیونکہ یہ فیس ہوٹل یا مختصر قیام کی بکنگ پر شامل کی جا سکتی ہے۔
یہ تجویز اس وقت مزید مضبوط ہوئی جب لندن کے میئر صادق خان نے اس قانون سازی کی حمایت کی جس کے تحت انگلش ڈیولیوشن اینڈ کمیونٹی ایمپاورمنٹ بل کے ذریعے میئرز اور مقامی حکام کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ رہائش پر ایک چھوٹی سی فیس عائد کر سکیں۔ یہ بل برطانوی پارلیمان میں پیش رفت کے مراحل میں ہے۔
لندن دنیا کے سب سے زیادہ وزٹ کیے جانے والے شہروں میں سے ایک ہے، جہاں صرف 2024 میں 8 کروڑ 90 لاکھ راتیں بک ہوئیں۔ حکام کے مطابق اس قیام پر لگنے والی معمولی فیس سے ہر سال 240 ملین پاؤنڈ تک کی آمدن ہو سکتی ہے۔ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں پہلے ہی یہ ٹیکس نافذ ہے، جبکہ انگلینڈ واحد جی-7 ملک ہے جہاں مقامی حکومتوں کے پاس ایسا اختیار موجود نہیں۔ اس کے برعکس اسکاٹ لینڈ اور ویلز اپنی پالیسیوں کی منظوری دے چکے ہیں، جہاں 2026 سے ویلز میں 1.30 پاؤنڈ فی رات لیا جائے گا۔
پالیسی ریسرچ کے لیے گریٹر لندن اتھارٹی نے سنٹر فار سٹیز سے تین بین الاقوامی ماڈلز کا جائزہ لیا، جن میں فیصد کی بنیاد پر فیس (نیویارک، ٹورنٹو)، مقررہ رقم فی رات (ٹوکیو)، اور رہائش کی قسم یا درجہ بندی کے مطابق مختلف فیس (فرانس، اٹلی) شامل ہیں۔ چونکہ برطانیہ میں ہوٹل اسٹار ریٹنگ کا باضابطہ نظام موجود نہیں، اس لیے لندن کے لیے فیصد یا ایک مقررہ فیس بہتر سمجھی جا رہی ہے۔
GLA کے مطابق ایک پاؤنڈ فی رات سے 91 ملین پاؤنڈ اور 5 فیصد لیوی سے 240 ملین پاؤنڈ سالانہ حاصل ہو سکتے ہیں۔ ریسرچ میں بتایا گیا کہ اس فیس سے لندن کے سیاحوں کی تعداد پر کوئی نمایاں فرق نہیں پڑے گا کیونکہ شہر کی مانگ پہلے سے ہی بہت زیادہ ہے۔
اماراتی مسافروں کے لیے اس کی لاگت بہت کم ہوگی، یعنی چند پاؤنڈ فی رات سے زیادہ نہیں۔ طویل ویک اینڈ جیسے مختصر سفر میں فرق نہ ہونے کے برابر ہوگا، جبکہ بکنگ یا چیک اِن کے دوران فیس واضح طور پر شامل ہوگی۔ حاصل ہونے والی رقم شہر کی بہتری، ٹرانسپورٹ، بنیادی ڈھانچے اور سیاحتی سہولیات پر خرچ کی جائے گی۔
سنٹر فار سٹیز کے چیف ایگزیکٹو اینڈریو کارٹر نے کہا کہ لندن کو اسکاٹ لینڈ کے طریقہ کار سے فائدہ اٹھانا چاہیے جہاں ہوٹلوں، بی اینڈ بی اور شارٹ اسٹے رہائش پر فیصد کے حساب سے لیوی مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام لچکدار ہے اور طلب کے مطابق شرح بڑھائی یا کم کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق حاصل ہونے والی آمدنی اگر مقامی حکومتوں کے پاس رہے تو یہ شہر کی سیاحتی معیشت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگی۔
فی الحال لندن میں کوئی ٹورسٹ لیوی نافذ نہیں۔ قانون کی پارلیمان سے منظوری کے بعد ہی اس پر عمل درآمد ہوگا اور کوئی بھی فیس واضح طور پر بکنگ میں شامل کی جائے گی۔
سفر کی منصوبہ بندی کرنے والے اماراتی مسافروں کو چاہیے کہ رہائش کی بکنگ کے وقت چیک کریں کہ آیا ٹورسٹ ٹیکس شامل ہے یا بعد میں لاگو ہوگا۔ چند درہم اضافے کے باوجود اچھی لوکیشن اور بہتر سہولتیں رکھنے والے ہوٹل اب بھی بہترین انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں۔ لندن کی عالمی معیار کی ٹرانسپورٹ اور سیاحتی سہولیات پہلے ہی مسافروں کے لیے بڑا سہارا ہیں، اور ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن ان خدمات کو مزید بہتر بنائے گی۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ ممکنہ لیوی اماراتی مسافروں کے لیے کسی بڑی مالی تبدیلی کا باعث نہیں بنے گی، اور لندن بدستور دنیا کے پسندیدہ ترین سفری مقامات میں شامل رہے گا۔







