
خلیج اردو
سڈنی: آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور بانڈی بیچ پر اتوار کے روز ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے۔ اے بی سی نیوز کے مطابق مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک ہلاک ہو چکا ہے جبکہ دوسرا نازک حالت میں زیر علاج ہے۔
اس واقعے کی ایک ہولناک ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں ایک راہگیر کو غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بانڈی بیچ کے ایک حملہ آور کو قابو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ راہگیر پہلے حملہ آور کو پیچھے سے دبوچتا ہے اور اس کا بھاری ہتھیار چھین لیتا ہے، جبکہ حملہ آور ساحلی تقریب میں فائرنگ جاری رکھے ہوئے تھا جہاں یہودی تہوار حنوکہ منایا جا رہا تھا۔
57 سیکنڈ کی یہ غیر مصدقہ ویڈیو حملہ آور اور راہگیر کے درمیان نہایت کشیدہ لمحات کو محفوظ کرتی ہے۔ سفید شرٹ میں ملبوس راہگیر ایک کھڑی گاڑی کے پیچھے پناہ لیتا ہے جبکہ کچھ فاصلے پر سفید پتلون، گہرے رنگ کی قمیص اور بظاہر حفاظتی جیکٹ پہنے مسلح شخص موجود ہوتا ہے۔
اچانک راہگیر اپنی پناہ گاہ سے نکل کر گاڑیوں کے درمیان دوڑتا ہے، حملہ آور کو پیچھے سے پکڑ کر گلا دباتا ہے اور مختصر جدوجہد کے بعد شاٹ گن پر قابو پا لیتا ہے، جس کے نتیجے میں حملہ آور پیچھے کی جانب لڑکھڑا جاتا ہے۔
بعد ازاں راہگیر ہتھیار کو حملہ آور کی طرف تان لیتا ہے، جس پر حملہ آور قریب موجود پل کی جانب پیچھے ہٹنے لگتا ہے اور بار بار مڑ کر دیکھتا ہے۔ راہگیر مزید تعاقب کے بجائے شاٹ گن کو ایک درخت کے ساتھ رکھ دیتا ہے اور ایک بازو بلند کر کے اشارہ دیتا ہے کہ وہ حملہ آور نہیں ہے۔
اسی ویڈیو میں ایک دوسرے مسلح شخص کو بھی پل پر موجود دیکھا جا سکتا ہے، جو بار بار اٹھ کر پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں شامل ہوتا ہے، جبکہ نیچے کھڑی گاڑیوں کے پیچھے پولیس اہلکار پناہ لیتے نظر آتے ہیں۔
ایک اور غیر مصدقہ ویڈیو میں دو افراد کو ایک چھوٹے پیدل پل پر پولیس کے ہاتھوں زمین پر لٹایا ہوا دکھایا گیا ہے، جہاں افسران ایک شخص کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز ایمبولینس سروس کے مطابق واقعے کے بعد درجن کے قریب افراد کو مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ وزیر اعظم انتھونی البنیز نے واقعے کو "دل دہلا دینے والا اور پریشان کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور جانیں بچانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
عینی شاہد 30 سالہ ہیری ولسن نے بتایا کہ اس نے کم از کم 10 افراد کو زمین پر گرا ہوا اور ہر طرف خون دیکھا۔ اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے کہا کہ ساحل پر حنوکہ کی پہلی شمع روشن کرنے آنے والے یہودیوں پر "گھناؤنے دہشت گردوں” نے حملہ کیا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے بھی واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
بانڈی بیچ دنیا کے مشہور ترین ساحلوں میں سے ایک ہے، جو عام طور پر مقامی افراد اور سیاحوں سے بھرا رہتا ہے، خاص طور پر گرم ویک اینڈ شاموں میں۔ آسٹریلین جیوشری کی ایگزیکٹو کونسل کے شریک سربراہ ایلکس رِوچن نے کہا کہ اگر اس طرح دانستہ نشانہ بنایا گیا ہے تو یہ ایک ایسا خوفناک پیمانہ ہے جس کا تصور بھی ممکن نہ تھا، جبکہ اپوزیشن لیڈر سوسن لے نے واقعے میں جانی نقصان کو "انتہائی سنگین” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا اس وقت گہرے سوگ میں ہے۔







