
خلیج اردو
یو اے ای میں ہر سال کرسمس کے موقع پر کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو خود کو قدرتی سانتا کلاز بنانے کے لیے مہینوں پہلے تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ گزشتہ دس برسوں سے ہر ستمبر میں ڈیوڈ لیرمین اپنی سفید داڑھی بڑھانا شروع کر دیتے ہیں تاکہ کرسمس تک وہ مکمل سانتا کلاز کے روپ میں نظر آ سکیں۔ سرخ و سفید لباس، گول مٹول جسم، چشمہ اور تہواروں والی ٹوپی کے ساتھ ان کی شخصیت کسی فلم یا ناول کے سانتا کی مانند محسوس ہوتی ہے۔
راس الخیمہ میں مقیم ڈیوڈ لیرمین پیشے کے اعتبار سے فوٹوگرافر ہیں اور دسمبر میں انہیں سانتا کلاز کے طور پر خاصی مصروفیت رہتی ہے۔ رواں سال دسمبر میں انہیں تقریباً 35 بُکنگز ملیں، جو کرسمس ڈے کے قریب آتے آتے روزانہ چار سے پانچ تقاریب تک پہنچ جاتی ہیں۔ وہ کبھی نجی گھروں میں منعقدہ تقریبات میں شریک ہوتے ہیں، تاہم زیادہ تر ہوٹلوں میں ان کی بُکنگ ہوتی ہے۔
ڈیوڈ لیرمین کے مطابق کرسمس کے اگلے دن، یعنی 26 دسمبر کو، وہ سب سے پہلے نائی کی دکان کا رخ کرتے ہیں اور اپنی داڑھی مکمل طور پر کٹوا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نائی اکثر انہیں سانتا کا لباس پہنے آنے کا کہتے ہیں تاکہ اس لمحے کی تصاویر لی جا سکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سانتا کلاز کے طور پر کام مالی طور پر کوئی پائیدار ذریعہ آمدن نہیں، مگر بچوں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر انہیں دلی سکون ملتا ہے۔ ان کے مطابق جب بچے تحفہ لیتے ہیں، داڑھی کھینچتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا وہ اصل سانتا ہیں، تو وہ لمحہ ہی ان کے لیے سب سے بڑی کمائی بن جاتا ہے۔
ڈیوڈ لیرمین اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک تخلیقی ایجنسی بھی چلاتے ہیں، اور آزاد فوٹوگرافر ہونے کی وجہ سے وہ سانتا کلاز کے کام کو بغیر کسی دباؤ کے انجام دے سکتے ہیں۔
انہوں نے راس الخیمہ کے الجزیرہ الحمراء میں واقع ہیریٹیج ولیج کی ایک تقریب کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں ان کے ساتھ تصویر بنوانے والوں میں بڑی تعداد اماراتی شہریوں کی تھی، جو ان کے لیے خوشگوار تجربہ تھا۔ تاہم ایک اور تقریب کو انہوں نے عجیب اور غیر معمولی قرار دیا، جہاں ایک ایونٹس کمپنی نے غیر مسیحی پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لیے کرسمس کی تقریب منعقد کی تھی۔
ڈیوڈ لیرمین کے مطابق ان بچوں کے لیے یہ تہوار اجنبی تھا اور ثقافتی طور پر ان پر مسلط کیا جا رہا تھا، جو انہیں غیر فطری محسوس ہوا۔ انہوں نے اس تقریب کو محض تجارتی مقصد کے تحت منعقد کیے جانے پر تنقید کی اور کہا کہ بچوں کو ایسے گیت گانے پر مجبور کیا جا رہا تھا جو نہ ان کی ثقافت کا حصہ تھے اور نہ ہی ان کے مذہب کا، جس سے یہ تقریب خوشی کے بجائے ایک کاروباری سرگرمی بن کر رہ گئی۔






