
خلیج اردو
ابوظبی پولیس نے بدھ کے روز عوام کو خبردار کیا ہے کہ مختلف عوامی مقامات پر جعلی کیو آر کوڈ اسٹیکرز لگائے جا رہے ہیں، جو سائبر فراڈ کے ذریعے بینکنگ اور ذاتی معلومات چرانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ پولیس کے مطابق جعلساز ادائیگی کے آلات، پارکنگ میٹرز، ڈیش بورڈز اور دیگر نمایاں جگہوں پر ایسے کیو آر کوڈ چسپاں کر رہے ہیں جو بظاہر سرکاری ادائیگی کوڈز سے مشابہ ہوتے ہیں، مگر اسکین کرنے پر صارفین کو جعلی ویب سائٹس پر منتقل کر دیتے ہیں جہاں کارڈ کی تفصیلات یا ذاتی معلومات درج کرنے کا کہا جاتا ہے، جس سے ہیکنگ اور مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
حکام نے زور دیا ہے کہ ادائیگیاں صرف سرکاری، مجاز ایپس یا مستند حکومتی پلیٹ فارمز کے ذریعے ہی کی جائیں اور کسی بھی ایسے کیو آر کوڈ کو اسکین نہ کیا جائے جس کا ماخذ واضح نہ ہو یا جو کسی سرکاری سائن یا پینل کا حصہ نہ ہو۔
اسی نوعیت کی وارننگ دبئی میں بھی دی جا چکی ہے، جہاں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں پارکنگ آپریٹر پارکن کے پوسٹرز پر جعلی کیو آر کوڈز چسپاں دکھائے گئے تھے۔ اس پر روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور پارکن نے موٹر سواروں اور رہائشیوں کو پارکنگ میٹرز یا ادائیگی مشینوں پر غیر مجاز کیو آر کوڈز اسکین نہ کرنے کی ہدایت کی۔ دونوں اداروں نے واضح کیا کہ سرکاری کیو آر کوڈز واضح طور پر نشان زد ہوتے ہیں اور صرف منظور شدہ ادائیگی پلیٹ فارمز سے منسلک ہوتے ہیں، جبکہ مشتبہ اسٹیکرز کی فوری اطلاع دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
دبئی میں تمام پارکنگ سائن بورڈز پر پارکنگ فیس کی آسان ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈ موجود ہوتے ہیں، جہاں موبائل یا ایم پارکنگ سروس استعمال کرنے پر ایس ایم ایس کے مقابلے میں 30 فلس کی بچت ہوتی ہے۔ کیو آر کوڈ اسکین کرنے پر ایپ کلپس فیچر ظاہر ہوتا ہے جو پارکن ایپ کا حصہ ہے اور کسی علیحدہ ایپ ڈاؤن لوڈ کیے بغیر موبائل میں محفوظ بینک کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
یو اے ای حکام نے اس امر پر زور دیا ہے کہ عوامی آگاہی اور مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت اطلاع سائبر جرائم کی روک تھام اور مالی نقصان سے بچاؤ کے لیے نہایت اہم ہے۔






