متحدہ عرب امارات

2026 میں یو اے ای کے ورکرز اپنی تنخواہیں کیسے مختلف انداز میں استعمال کر رہے ہیں

خلیج اردو

متحدہ عرب امارات میں مالی شمولیت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں اب توجہ صرف تنخواہوں تک رسائی کے بجائے ان کے عملی استعمال پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اگرچہ ویج پروٹیکشن سسٹم کے ذریعے ڈیجیٹل تنخواہوں کی ادائیگی تقریباً مکمل ہو چکی ہے، تاہم کم آمدنی والے کارکنوں کی بڑی تعداد اب بھی نقدی پر انحصار کرتی رہی ہے، جو اب بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔

یو اے ای کی افرادی قوت میں 60 فیصد سے زائد افراد کی ماہانہ آمدن 5 ہزار درہم سے کم ہے۔ اس طبقے کے لیے تنخواہ وصول کرنے، خرچ کرنے اور ترسیلات زر بھیجنے کے طریقے براہِ راست فلاح، پیداواریت اور قانونی تقاضوں سے جڑے ہیں۔ ایڈن ریڈ کی 2025 کی رویہ جاتی رپورٹ کے مطابق 2026 میں مالی شمولیت کے پانچ بڑے رجحانات نمایاں ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق کم آمدنی والے کارکنوں میں نقدی کے استعمال میں نمایاں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں نقدی پر انحصار 84 فیصد سے کم ہو کر 69 فیصد رہ گیا ہے، جو اب تک کی سب سے بڑی کمی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مکمل تنخواہ فوری طور پر نکلوانے کے رجحان میں مستقل کمی دیکھی گئی ہے۔ اگرچہ اب بھی تقریباً 45 فیصد کارکن تنخواہ جمع ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر رقم نکلوا لیتے ہیں، تاہم ڈیجیٹل ٹرانسفرز بالخصوص ترسیلات زر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ رجحان برقرار رہا تو نقدی نکلوانے کی شرح 60 فیصد سے بھی نیچے آ سکتی ہے، جو ایک عارضی نہیں بلکہ ساختی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے۔

تنخواہ سے متعلق ایپس اب صرف بیلنس دیکھنے یا رقم نکلوانے تک محدود نہیں رہیں۔ یہ ایپس اب ترسیلات، بلوں کی ادائیگی، بچت اور بنیادی مالی سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کر رہی ہیں۔ ایسے مربوط نظام استعمال کرنے والے اداروں میں تنخواہوں سے متعلق شکایات میں کمی اور ملازمین کے اطمینان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2026 میں ان ایپس میں غیر مالی سہولیات کے مزید اضافے کی توقع ہے، جس سے غیر رسمی ذرائع پر انحصار کم ہوگا۔ بہت سے کارکنوں کے لیے تنخواہ ایپ اب ماہانہ نہیں بلکہ روزمرہ استعمال کی سہولت بنتی جا رہی ہے۔

کم مالی آگاہی بدستور ایک بڑا چیلنج ہے۔ اندازوں کے مطابق یو اے ای میں صرف 31 فیصد سے کم افراد کو بنیادی مالی سمجھ بوجھ حاصل ہے۔ اس کمی کے باعث کٹوتیوں، تنخواہ تنازعات اور قرض سے متعلق غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں، جس سے اداروں پر انتظامی دباؤ بڑھتا ہے۔ اسی لیے آجر اب مالی تعلیم کو ایک بنیادی ضرورت سمجھنے لگے ہیں۔ بجٹنگ، ڈیجیٹل ٹولز اور ذمہ دارانہ قرض کے موضوعات پر کثیر لسانی تربیت کو تیزی سے فروغ دیا جا رہا ہے، جبکہ تعمیرات، لاجسٹکس اور فیسلٹیز مینجمنٹ جیسے شعبوں میں آن سائٹ تربیت سب سے مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

ادھر تنخواہوں سے متعلق قوانین پر عملدرآمد مزید سخت ہو رہا ہے۔ 2025 کے پہلے چھ ماہ میں وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن نے 2 لاکھ 85 ہزار معائنوں کے بعد 5 ہزار 400 سے زائد اداروں کی خلاف ورزیاں رپورٹ کیں۔ ویج پروٹیکشن سسٹم کے تحت تنخواہوں کی بروقت ادائیگی میں ناکامی اور تاخیر بڑے مسائل رہے، جن پر جرمانے، انتظامی کارروائیاں اور ورک پرمٹس پر پابندیاں شامل ہیں۔ اب نگرانی وقتی رپورٹس کے بجائے مسلسل بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالٹکس بھی مالی شمولیت میں اہم کردار ادا کرنے لگے ہیں۔ نئے سسٹمز غیر معمولی اخراجات، تنخواہ کے بہاؤ میں رکاوٹ اور ممکنہ فراڈ کی نشاندہی ابتدائی مرحلے میں کر رہے ہیں۔ تاہم ان ٹولز کی کامیابی سادہ اور واضح معلوماتی پیغامات پر منحصر ہے، خاص طور پر ان کارکنوں کے لیے جن کا مالی تجربہ محدود ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل تنخواہوں کا بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی موجود ہے، اب اصل توجہ رویوں، سمجھ بوجھ اور نگرانی پر ہے۔ 2026 تک کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ تنخواہ کیسے دی جا رہی ہے بلکہ یہ ہوگا کہ کارکن اسے کس حد تک محفوظ اور مؤثر انداز میں استعمال کر پا رہے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button