خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں میں 18 اور 19 دسمبر کو شدید بارشوں اور گرج چمک کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے، تاہم وفاقی و مقامی حکام کی بروقت اور مربوط کارروائی کے باعث صورتحال کو مؤثر انداز میں کنٹرول کر لیا گیا اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو گھروں میں رہنے، نشیبی اور سیلاب زدہ علاقوں سے دور رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات جاری کی گئیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے طور پر بعض پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئیں۔
نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے مطابق ملک بھر میں وسیع پیمانے پر بارش ریکارڈ کی گئی، جہاں سقر پورٹ میں سب سے زیادہ 98 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ الجزلہ، جبل جیس اور جبل الرحبہ جیسے پہاڑی علاقوں میں بھی شدید بارشیں ہوئیں۔ موسمی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی ادارے ہائی الرٹ پر رہے، سیکیورٹی اور ٹریفک پیٹرولنگ بڑھا دی گئی اور اہم شاہراہوں پر نگرانی کے ذریعے ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھا گیا۔
فجیرہ میں بلدیاتی اور ہنگامی اداروں نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے سڑکوں اور رہائشی علاقوں سے پانی کی نکاسی مکمل کر لی، جس کے بعد حالات معمول پر آ گئے اور کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ دبئی ایمبولینس نے بتایا کہ خراب موسم کے دوران سنگین ایمرجنسی کالز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ سرکاری اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور ریموٹ ورکنگ جیسے اقدامات کو قرار دیا گیا۔
ابوظہبی اور دبئی پولیس نے نشیبی علاقوں، سرنگوں، وادیوں اور پانی جمع ہونے والے مقامات پر خصوصی پیٹرولنگ کی، رفتار کی حد کم کی گئی اور موٹر سائیکل ڈیلیوری سروسز معطل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ شہریوں کی سہولت کے لیے دبئی اور شارجہ پولیس نے گاڑیوں کو بارش سے ہونے والے نقصان پر آن لائن سرٹیفکیٹس کے اجرا کی سہولت بھی متعارف کرائی تاکہ انشورنس کلیمز آسان بنائے جا سکیں۔
شدید موسم کے باعث عارضی طور پر پارکس، ساحل اور بعض تفریحی مقامات بند کیے گئے تھے، تاہم موسم بہتر ہونے پر دبئی اور ابوظہبی میں پارکس اور ساحل دوبارہ کھول دیے گئے، جبکہ دبئی ایئرپورٹس نے اعلان کیا کہ پروازوں کا نظام زیادہ تر معمول پر آ چکا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق غیر مستحکم موسم کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس پر حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کی تلقین کی ہے۔







