متحدہ عرب امارات

دبئی کی بڑی کرسمس ٹریز کی تیاری: روشن کرنے سے پہلے نو ماہ کی منصوبہ بندی

خلیج اردو
ہر سال دسمبر میں دبئی کے شاپنگ مالز، ہوٹلز اور تفریحی مقامات پر شاندار اور بلند و بالا کرسمس ٹریز نصب کی جاتی ہیں، جو ہزاروں روشنیوں اور آرائشی اشیا سے مزین ہو کر شہریوں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ تاہم یہ دلکش مناظر بظاہر جتنے آسان دکھائی دیتے ہیں، ان کے پیچھے مہینوں پر محیط منصوبہ بندی اور محنت شامل ہوتی ہے، بعض مقامات پر تو تیاری کا آغاز نو ماہ پہلے کر دیا جاتا ہے۔

اس سال گلوبل ولیج میں دو کرسمس ٹریز نصب کی گئیں، جن کی اونچائی 21 میٹر ہے، جو تقریباً سات منزلہ عمارت کے برابر ہے۔ دبئی فیسٹیول سٹی نے 15 میٹر بلند کرسمس ٹری متعارف کرائی، جسے مضبوط دھاتی فریم پر تعمیر کیا گیا اور 3 ہزار میٹر وارم ایل ای ڈی لائٹس، 3 ہزار 200 سے زائد آرائشی گیندوں، روشن برفانی اشکال، ہرنوں اور ڈیڑھ میٹر بلند ستارے سے سجایا گیا۔

گلوبل ولیج کے ترجمان کے مطابق، ان ٹریز کی تیاری کے لیے 75 سے زائد افراد پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم نے کام کیا، جس میں ڈیزائنرز، انسٹالیشن ٹیکنیشنز، الیکٹریشنز، آپریشنز اور سیفٹی ماہرین شامل تھے۔

کچھ مقامات نے تخلیقی انداز اپنایا۔ دبئی کے ہوٹل دی لانا نے ہسپانوی ڈیزائنر منولو بلاہنک کے اشتراک سے فیشن سے متاثر کرسمس ٹری تیار کی، جس کی تیاری تقریباً نو ماہ قبل شروع کی گئی۔ اس پانچ میٹر بلند تنصیب میں ڈیزائنر کے مشہور جوتوں سے مزین خصوصی آرائشی گیندیں اور گلابی ربن شامل تھے۔

اسمبلی کے دوران سب سے بڑا چیلنج بڑے سائز کے ڈھانچوں کی ترسیل، بلندی پر کام، حفاظتی اقدامات اور پارک یا ہوٹل کے معمولات کو متاثر کیے بغیر تنصیب کو مکمل کرنا تھا۔ گلوبل ولیج میں یہ عمل تقریباً چار ہفتے جاری رہا، جبکہ دبئی فیسٹیول سٹی میں تین ہفتے لگے اور زیادہ تر کام رات کے وقت خصوصی اجازت ناموں کے تحت کیا گیا۔

اکور دبئی دیرا اور دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ کلسٹر میں ساڑھے چار میٹر بلند کرسمس ٹری صرف چار دن میں نصب کی گئی، جس کے لیے چھ افراد پر مشتمل ٹیم نے کام کیا۔ ہوٹل دی لانا میں یہ کام راتوں رات مکمل کیا گیا تاکہ مہمان صبح ایک مکمل تہواری ماحول دیکھ سکیں۔

تقریبات کے اختتام پر ٹریز کو تین گھنٹوں سے دو دن کے اندر احتیاط سے کھول کر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ منتظمین کے مطابق زیادہ تر آرائش اور ڈھانچے اگلے سال کے لیے محفوظ یا دوبارہ استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ پائیداری اور ذمہ دارانہ پیداوار کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button