متحدہ عرب امارات

یورپ سے ایشیا تک، یو اے ای ایئرلائنز کے دو ہزار چھبیس کے لیے نئے روٹس کے منصوبے

خلیج اردو
دبئی: عالمی سفری طلب میں مسلسل اضافے کے پیش نظر یو اے ای کی ایئرلائنز نے دو ہزار چھبیس کے لیے اپنے نیٹ ورک میں نمایاں توسیع کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے، جس کا مقصد مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بہتر سہولیات اور براہِ راست سفری مواقع فراہم کرنا ہے۔

مکمل خبر
عالمی ادارہ ایئرپورٹس کونسل انٹرنیشنل کے مطابق دو ہزار پچیس کے اختتام تک دنیا بھر میں مسافروں کی تعداد نو اعشاریہ آٹھ ارب تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں یہ تعداد چار سو چھیاسٹھ ملین مسافروں تک جا سکتی ہے، حالانکہ خطے میں جغرافیائی و سیاسی خدشات بدستور موجود ہیں۔ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق اگست دو ہزار پچیس میں مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز کے مسافر ٹریفک میں سالانہ بنیاد پر آٹھ اعشاریہ دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مضبوط طلب کی واضح علامت ہے۔

اسی پس منظر میں یو اے ای کی ایئرلائنز نے متوقع دباؤ سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اتحاد ایئرویز نے اعلان کیا ہے کہ وہ دو ہزار چھبیس کے پہلے نصف میں آٹھ نئے روٹس متعارف کرائے گی، جبکہ ایمریٹس اپنی لندن سروسز پر گنجائش بڑھا رہی ہے، جو سفری سرچ پلیٹ فارمز پر مقبول رہنے والی منزلوں کے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔

اتحاد ایئرویز مارچ دو ہزار چھبیس سے آٹھ نئی منزلوں کے لیے پروازیں شروع کرے گی۔ دو مارچ سے آذربائیجان کے شہر باکو کے لیے ہفتہ وار دس پروازیں چلائی جائیں گی۔ اس کے بعد نو مارچ کو آرمینیا کے دارالحکومت یریوان، تیرہ مارچ کو جارجیا کے شہر تبلیسی، اور سولہ مارچ کو قازقستان کے شہر الماتے اور رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ کے لیے پروازیں شروع ہوں گی۔ مئی میں عمان کے شہر صلالہ کے لیے پروازوں کا آغاز کیا جائے گا جبکہ جون میں پولینڈ کے تاریخی شہر کراکوف کو نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اتحاد ایئرویز چار مئی کو امریکا کے شہر شارلٹ کے لیے ایک نئی ٹرانس اٹلانٹک پرواز بھی شروع کرے گی، جس سے کاروباری اور سیاحتی سفر کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

ادھر ایمریٹس اگرچہ نئے روٹس کا اعلان نہیں کر رہی، تاہم بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر دبئی اور لندن گیٹوک کے درمیان پروازوں کی تعداد آٹھ فروری دو ہزار چھبیس سے بڑھا کر روزانہ چار راؤنڈ ٹرپس کر دی جائے گی۔ لندن بدستور یورپ کے اہم سفری مراکز میں شامل ہے اور یو اے ای کے مسافروں میں خاص طور پر ادبی اور ثقافتی مقامات کے شوقین افراد کے لیے پرکشش سمجھا جاتا ہے۔

سفری ماہرین کے مطابق دو ہزار چھبیس میں مسافروں کا رجحان ہجوم والی روایتی سیاحتی جگہوں کے بجائے نسبتاً کم معروف مگر ثقافتی طور پر بھرپور مقامات کی جانب ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی منزلوں کا انتخاب پائیدار اور ذمہ دار سیاحت کے تصور کے تحت کیا جا رہا ہے، جہاں مقامی معیشت کو فائدہ پہنچے اور مسافروں کو منفرد تجربات حاصل ہوں۔

رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایمریٹس، ایئر عربیہ اور فلائی دبئی نے ابھی مزید مخصوص روٹس کا اعلان نہیں کیا، تاہم آنے والے مہینوں میں ان ایئرلائنز کی جانب سے مزید توسیعی منصوبوں کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے یو اے ای مسافروں کے لیے دو ہزار چھبیس میں دنیا کے مختلف حصوں تک براہِ راست رسائی مزید آسان ہو جائے گی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button