
خلیج اردو
ماہرین کے مطابق سفر کے دوران والدین کو بچوں، خصوصاً چھ سال سے کم عمر بچوں، کے ساتھ عمر کے مطابق بات چیت کرنا اور واضح حفاظتی اصول طے کرنا بے حد ضروری ہے، تاکہ غیر مانوس ماحول میں بچوں کو محفوظ رکھا جا سکے اور تعطیلات کے دوران کسی خطرے سے بچاؤ ممکن ہو۔ سیکیورو گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رافال ہپس کا کہنا ہے کہ موسمِ سرما کی تعطیلات میں سفر خطرات کو بڑھا دیتا ہے، کیونکہ خاندان تھکن کا شکار ہوتے ہیں، معمولات متاثر ہوتے ہیں اور بچے حد سے زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں، جبکہ رش والے ٹرانزٹ مراکز، مصروف تفریحی مقامات اور ہوٹل عملے پر دباؤ والدین کی توجہ کم اور ماحول میں انتشار بڑھا دیتا ہے۔
سیج کلینکس کی کلینیکل ماہرِ نفسیات ڈاکٹر وفا سعود کے مطابق والدین کو بچوں کے ساتھ خطرات اور اردگرد کے ماحول سے آگاہی پر مبنی سادہ اور دیانت دار گفتگو کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق والدین بچوں کی مدد اس طرح کر سکتے ہیں کہ وہ مشکوک رویوں کو پہچانیں، اپنے اندرونی احساسات پر بھروسہ کریں، واضح حدود طے کریں اور محفوظ بڑوں سے مدد طلب کریں، جبکہ مختلف ممالک میں رش، ٹریفک یا نگرانی کی کمی جیسے عوامل کی وضاحت خوف پیدا کیے بغیر کی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ بچوں کو اہم معلومات، جیسے والدین کے فون نمبر اور پتہ، یاد کرانا ضروری ہے، خاص طور پر اگر بچے کے پاس فون موجود نہ ہو۔
سفر کے دوران سب سے عام حفاظتی مسئلہ رش والی عوامی جگہوں پر بچوں کا والدین سے بچھڑ جانا ہے۔ شاہد خان نے بتایا کہ وہ گزشتہ سال وینس میں اپنے تین اور ایک سالہ بیٹوں کے ساتھ تھے جب چند لمحوں کے لیے بڑا بیٹا گم ہو گیا۔ ان کے مطابق اسٹریولرز، ڈائپر بیگز اور خریداری کے سامان کے باعث توجہ بٹی ہوئی تھی، بچہ گاڑی سے اترا اور چند پلوں سے گزرتے ہوئے اچانک احساس ہوا کہ وہ ساتھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند منٹ انتہائی خوفناک تھے، چیخ و پکار کے بعد انہوں نے واپس جا کر بچے کو پل پر پانی دیکھتے ہوئے پایا، اور اسے احساس بھی نہیں تھا کہ وہ والدین سے جدا ہو چکا ہے۔
رافال ہپس کے مطابق ایک بچہ تین سیکنڈ سے بھی کم وقت میں نظروں سے اوجھل ہو سکتا ہے، اور یہ زیادہ تر غیر مانوس جگہوں پر ہوتا ہے جہاں والدین کے پاس ذہنی نقشہ یا متبادل منصوبہ موجود نہیں ہوتا۔ اسکرینز جیسے موبائل آلات توجہ مزید کم کر دیتے ہیں، جبکہ سفر گھریلو غیر رسمی اصول بھی توڑ دیتا ہے کہ بچہ کہاں جا سکتا ہے، کس کے ساتھ رہ سکتا ہے اور منصوبہ بدلنے پر کیا کرنا ہے۔
ڈاکٹر وفا کے مطابق بچوں کو کم عمری سے ہی یہ سکھانا چاہیے کہ اگر وہ خود کو کھویا ہوا یا غیر محفوظ محسوس کریں تو کیا کہنا ہے۔ ایک مختصر اور سادہ جملہ یاد کروانا مددگار ہوتا ہے، جیسے ’’کیا آپ میری امی کو ڈھونڈنے میں مدد کریں گے؟‘‘، اور یہ بھی سکھایا جانا چاہیے کہ پولیس، ایئرپورٹ یا سیکیورٹی اسٹاف، یا آخری صورت میں بچوں کے ساتھ موجود کسی والدین سے مدد لی جائے۔ ساتھ ہی واضح حد بندی ضروری ہے کہ کسی اجنبی کے ساتھ گاڑی میں نہ بیٹھیں اور نہ ہی کسی اور جگہ جائیں۔
رافال ہپس نے بتایا کہ جی پی ایس ٹریکرز، اسمارٹ واچز اور لوکیشن شیئرنگ ایپس اضافی اطمینان فراہم کر سکتی ہیں، مگر ان پر مکمل انحصار درست نہیں، کیونکہ آلات خراب ہو سکتے ہیں، سگنل ختم ہو سکتا ہے یا رش والی جگہوں پر اتار دیے جا سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ عمر کے مطابق ٹولز منتخب کریں اور منزل پر کنیکٹیوٹی کی جانچ کریں۔ انہوں نے بچوں کو خطرناک مقامات، جیسے بڑے کار پارکس، لوڈنگ ایریاز، زیرِ زمین جگہیں اور کم روشنی والے حصے، پہچاننے کی تربیت دینے پر بھی زور دیا اور کہا کہ خطرے کی صورت میں بچوں کو لوگوں، روشنی اور عملے کی طرف جانا چاہیے، چھپنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے والدین کو یہ بھی مشورہ دیا کہ اگر بچہ گم ہو جائے تو پہلے ردعمل دیں اور بعد میں معذرت کریں، کیونکہ غلط الارم کی قیمت محض شرمندگی ہوتی ہے، جبکہ تاخیر والدین کے بدترین خوف کا باعث بن سکتی ہے۔







