
خلیج اردو
دبئی: تقریباً دو دہائیوں کی منصوبہ بندی اور تعمیر کے بعد متحدہ عرب امارات کی قومی ریلوے سروس اتحاد ریل 2026 میں باقاعدہ طور پر مسافروں کو لے جانے کے لیے تیار ہو رہی ہے، جو امارات کے درمیان سفر کے انداز کو یکسر بدل دے گی اور بین الریاستی ٹرانسپورٹ کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔ یہ منصوبہ نجی گاڑیوں پر انحصار کم کرنے، مقررہ اور قابلِ اعتماد سفری اوقات فراہم کرنے، عوامی ٹرانسپورٹ کے مربوط نظام کو فروغ دینے اور شاہراہوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا ماحول دوست متبادل پیش کرنے کی علامت ہے۔
اتحاد ریل کا نیٹ ورک 900 کلومیٹر پر محیط ہے، جو ابوظہبی کے مغربی علاقے السلعا سے لے کر مشرقی ساحل پر فجیرہ تک پھیلا ہوا ہے۔ مسافر سروس کے آغاز کے بعد یہ نیٹ ورک ساتوں امارات میں 11 شہروں اور علاقوں کو آپس میں جوڑے گا، جن میں ابوظہبی، دبئی، شارجہ، الرویس، المرفہ، الذید اور راس الخیمہ شامل ہیں۔ ریلوے لائن کی تعمیر مرحلہ وار کی گئی، جہاں 2016 میں شاہ، حبشان اور رویس کے درمیان سلفر کی ترسیل سے فریٹ آپریشن شروع ہوا، جبکہ 2023 تک تمام امارات کو جوڑنے والا قومی نیٹ ورک مکمل کر لیا گیا۔ مسافر ٹرینیں اس منصوبے کا آخری ملکی مرحلہ ہیں، جس کے بعد مستقبل میں خلیجی ممالک تک ریل رابطے کا تصور بھی شامل ہے۔
سفر کے اوقات کے حوالے سے اتحاد ریل نمایاں تبدیلی لانے جا رہی ہے۔ ابوظہبی سے دبئی کا سفر تقریباً 57 منٹ، ابوظہبی سے رویس 70 منٹ اور ابوظہبی سے فجیرہ 105 منٹ میں طے ہونے کی توقع ہے۔ ٹرینیں 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلیں گی، جس سے سڑک کے مقابلے میں سفری وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ ایک علیحدہ ہائی اسپیڈ ریل منصوبہ بھی زیرِ تکمیل ہے، جو ابوظہبی اور دبئی کو تقریباً 30 منٹ میں جوڑ دے گا، تاہم یہ سروس وسیع نیٹ ورک کا متبادل نہیں بلکہ ایک تیز رفتار، مخصوص کوریڈور کے طور پر کام کرے گی۔
مسافر ٹرینوں کے لیے دو ماڈلز متعارف کرائے جائیں گے، جن میں چینی ساختہ سی آر سی کوچز اور ہسپانوی کمپنی سی اے ایف کے کوچز شامل ہیں، جن میں فی ٹرین تقریباً 365 سے 369 مسافروں کی گنجائش ہوگی۔ دونوں ماڈلز میں تین کلاسز شامل ہوں گی، جن میں اکانومی کلاس مختصر اور درمیانی سفر کے لیے، فیملی کلاس گروپ سفر کے لیے اور فرسٹ کلاس زیادہ آرام کے لیے مختص ہوگی۔ تمام کوچز میں سامان رکھنے کی جگہ، فولڈنگ ٹیبلز اور بڑے بیگ کے لیے مخصوص حصے موجود ہوں گے۔ توقع ہے کہ روزانہ متعدد سروسز چلائی جائیں گی اور 2030 تک سالانہ مسافروں کی تعداد 3 کروڑ 65 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔
اہم مسافر اسٹیشن ابوظہبی، دبئی، شارجہ اور فجیرہ میں قائم کیے جائیں گے، جن کے ڈیزائن اماراتی ثقافت سے متاثر ہوں گے اور ان میں لاؤنجز، ریٹیل آؤٹ لیٹس اور خاندانی سہولیات شامل ہوں گی۔ ابوظہبی میں ریم آئی لینڈ، سعدیات آئی لینڈ، یاس آئی لینڈ اور مصفح و محمد بن زاید سٹی کے قریب اسٹیشن متوقع ہیں، جبکہ دبئی میں مرکزی اسٹیشن جمیرہ گالف اسٹیٹس میٹرو اسٹیشن کے قریب تعمیر ہو رہا ہے۔ شارجہ کا اسٹیشن یونیورسٹی سٹی کے قریب اور فجیرہ کا پہلا مسافر اسٹیشن سقمقم میں قائم ہوگا۔ یہ تمام اسٹیشن میٹرو، بس اور دیگر شیئرڈ موبیلٹی سہولیات سے منسلک ہوں گے تاکہ سفر کے آغاز اور اختتام میں آسانی پیدا کی جا سکے۔
ٹکٹنگ کے نظام کے تحت مسافر اسمارٹ الیکٹرانک گیٹس کے ذریعے داخل ہوں گے اور ٹکٹ زیادہ تر آن لائن بک کیے جائیں گے، جبکہ اسٹیشنز پر ٹکٹ مشینیں بھی دستیاب ہوں گی۔ ادائیگی کے لیے نقد رقم، ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈز اور ایپل پے کی سہولت ہوگی۔ تاہم ٹکٹوں کی قیمتیں، حتمی شیڈول اور کنیکٹنگ ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا اعلان ابھی باقی ہے، جو سروس کے آغاز کے قریب متوقع ہے۔ اتحاد ریل ملکی لاجسٹکس اور تجارتی حکمت عملی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی اور مستقبل میں یو اے ای اور عمان کے درمیان حفیط ریل منصوبے کے ذریعے سفر کے اوقات مزید کم ہو جائیں گے۔







