متحدہ عرب امارات

یو اے ای صدر کا شہریوں کے زیرِ انتظام نئی اتھارٹی کے قیام کا اعلان

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے کمیونٹی مینیجڈ ورچوئل اتھارٹی کے قیام کی ہدایت جاری کر دی ہے، جو ایک منفرد اور غیر روایتی حکومتی ماڈل کے تحت مکمل طور پر شہریوں کے زیرِ انتظام ہوگی۔ اس اقدام کی بنیاد بانیٔ یو اے ای شیخ زاید بن سلطان النہیان کے وژن سے لی گئی ہے، جبکہ اس اعلان کو سالِ کمیونٹی 2025 کے اختتام سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

نئی اتھارٹی کا مقصد ہنر مند اور باصلاحیت افراد کو قومی ترقی میں براہِ راست کردار ادا کرنے کا موقع دینا ہے۔ اس ماڈل کے تحت پہلی بار کمیونٹی کے منتخب اور اہل افراد کو مکمل اختیارات دیے جائیں گے، جہاں ڈائریکٹر جنرل اور ٹیم کے ارکان مقررہ مدت کے لیے ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور ایسے عملی و بامقصد منصوبے تیار کریں گے جو ملک اور عوام کے لیے دیرپا فائدہ فراہم کریں۔

یہ اقدام عوامی شمولیت پر مبنی حکمرانی کا ایک عالمی ماڈل قرار دیا جا رہا ہے، جو انسانی ترقی اور کمیونٹی کو بااختیار بنانے کے تصور کو مرکزیت دیتا ہے۔ اتھارٹی کو یو اے ای سینٹینیل 2071 وژن کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے، جس کا مقصد افراد کی صلاحیتوں کو نکھارنا، جدت اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینا اور مستقبل کی حکمرانی کے نئے ماڈلز متعارف کرانا ہے۔

اتھارٹی کی قیادت کے لیے تقرری کا عمل لچکدار ہوگا، جس میں اہلیت، مہارت اور مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو بنیادی معیار بنایا جائے گا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین، پیشہ ور افراد، تعلیمی ماہرین، نوجوان، کاروباری شخصیات اور ریٹائرڈ تجربہ کار افراد کو شامل کیا جائے گا تاکہ خیالات اور تجربات کا مسلسل تبادلہ جاری رہے۔

اتھارٹی کا بنیادی کام ایسے جدید منصوبے، پروگرام اور عملی حل تیار کرنا ہوگا جو کمیونٹی کی ضروریات اور امنگوں سے ہم آہنگ ہوں اور فوری طور پر نافذ کیے جا سکیں۔ قیادت کی گردش کے باوجود تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے واضح پالیسیوں، مرحلہ وار منصوبہ بندی اور علم کی منتقلی کے منظم طریقۂ کار کو اپنایا جائے گا۔

یہ اقدام حکمرانی کے ایک منفرد اور تاریخی ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، جو کمیونٹی کو ادارہ جاتی فریم ورک کے اندر مکمل انتظامی ذمہ داری دیتا ہے اور یو اے ای کو دنیا میں حکومتی جدت کا عملی مرکز بنانے کی سمت ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button