متحدہ عرب امارات

عمان میں یکم جنوری سے قبل از نکاح طبی معائنہ لازمی قرار

خلیج اردو
عمان میں شاہی فرمان کے تحت یکم جنوری 2026 سے عمانی شہریوں کے لیے شادی سے قبل طبی معائنہ لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اب جو بھی عمانی شہری نکاح کرنا چاہے گا، اسے اپنے شریکِ حیات کے ساتھ شادی کے معاہدے سے قبل طبی معائنہ کروانا ہوگا۔

یہ اصلاحات سلطان ہیثم بن طارق کی جانب سے جاری کردہ شاہی فرمان نمبر 111/2025 کے تحت نافذ کی گئی ہیں، جو قبل از نکاح طبی معائنے کے ضابطہ کار سے متعلق ہے۔ یہ طبی ٹیسٹ اس صورت میں بھی لازمی ہوں گے اگر نکاح ملک کے اندر یا باہر ہو اور چاہے فریقین میں سے ایک یا دونوں عمانی شہری ہوں۔

طبی معائنہ کرنے والے صحت کے ادارے پابند ہوں گے کہ شادی کے خواہش مند دونوں فریقین کو ان کے ٹیسٹ کے نتائج سے آگاہ کریں اور ضرورت پڑنے پر طبی مشاورت بھی فراہم کریں۔ تاہم طبی نتائج کسی تیسرے فریق کو فراہم کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں فریقین کو طبی معائنہ مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا، جس کے بغیر نکاح خواں کو شادی کا معاہدہ مکمل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

شاہی فرمان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کم از کم دس دن اور زیادہ سے زیادہ چھ ماہ قید، یا کم از کم 100 اور زیادہ سے زیادہ 1000 عمانی ریال جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں بھی شادی سے قبل طبی معائنہ لازمی ہے، جبکہ جنوری 2025 سے شادی کے خواہش مند شہریوں کے لیے جینیاتی ٹیسٹ کو بھی لازمی اسکریننگ پروگرام کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button