
خلیج اردو
دبئی اور متحدہ عرب امارات میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باوجود سرمایہ کار اور خریدار محتاط مگر پُراعتماد دکھائی دیتے ہیں، جہاں مقامی جیولرز کے مطابق قیمت میں کمی کو اکثر مارکیٹ میں داخل ہونے کا موقع سمجھا جا رہا ہے۔ زیادہ اتار چڑھاؤ کے دوران اسٹریٹیجک سرمایہ کار زیورات کے بجائے سونے کے بسکٹ اور سکے خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں، کیونکہ انہیں آئندہ قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع ہے۔
گزشتہ ماہ عالمی منڈی میں منافع خوری کے باعث سونے کی قیمتوں میں کمی کے بعد یو اے ای میں ایک ہی سیشن کے دوران فی گرام قیمت میں بیس درہم سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ حالیہ مہینوں میں سونا کئی بار نئی بلند ترین سطحوں کو بھی چھو چکا ہے۔ دو ہزار پچیس میں، وہ سرمایہ کار جنہوں نے دو ہزار چوبیس کے آخر میں سونے کے سکے اور بسکٹ خریدے تھے، ایک ہی سال میں اپنی سرمایہ کاری کی مالیت میں تقریباً دو تہائی اضافہ دیکھ چکے ہیں، جو قیمتی دھات کے لیے بہترین برسوں میں شمار ہو رہا ہے۔
دبئی جیولری گروپ کے چیئرمین توحید عبداللہ کے مطابق قیمتوں میں مسلسل اضافے نے خریداروں کو زیادہ سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے پر مجبور کیا ہے، جہاں اب خریدار خالص پن، قیمت، بائی بیک ویلیو اور طویل المدتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجموعی خریداری کا حجم کم ضرور ہوا ہے، مگر سرمایہ کاری سے جڑی خریداری اب بھی مضبوط ہے، اور خریدار وزن، وقت یا مصنوعات کے انتخاب میں تبدیلی لا رہے ہیں۔
جویا لوکساس کے جان پال الوکاس کے مطابق دبئی کے خریدار سونے کی مارکیٹ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور روزانہ یا ہفتہ وار قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو معمول کا حصہ تصور کرتے ہیں، جس کے باعث خریداروں کی آمد میں نمایاں کمی نہیں آتی۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کو اکثر شادیوں اور تہواروں جیسی منصوبہ بند خریداری کے لیے موقع سمجھا جاتا ہے، جبکہ قیمتوں میں اضافہ سونے کی طویل المدتی قدر کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
بافلہ جیولرز کے چیئرمین چراغ وورا کے مطابق دبئی کے خریدار قیمتوں کے حوالے سے نہایت باخبر ہیں اور عالمی مارکیٹ پر نظر رکھتے ہیں، جہاں قیمت بڑھنے پر زیورات کی فروخت سست ہو سکتی ہے، مگر اسی دوران چوبیس قیراط بسکٹ اور سکوں کی مانگ میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر ایک سے دس گرام کے چھوٹے وزن میں، تاکہ لچک برقرار رہے اور میکنگ چارجز سے بچا جا سکے۔
کانز جیولز کے انیل دھنک کے مطابق دبئی میں سونے کے نوے سے پچانوے فیصد خریدار سیاح ہوتے ہیں، جو مختصر قیام کے باعث قیمتوں میں کمی کا انتظار نہیں کرتے، جبکہ مقامی رہائشی عموماً قیمتوں پر نظر رکھتے ہیں، تاہم کئی بار انتظار کی حکمت عملی مواقع ضائع کر دیتی ہے کیونکہ سونے کی قیمتیں طویل مدت میں بڑھتی رہی ہیں۔
ملابار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز کے شملال احمد کے مطابق صارفین اب موجودہ قیمتوں کے عادی ہو چکے ہیں اور اتار چڑھاؤ کو معمول سمجھتے ہیں، جہاں زیورات بدستور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کیٹیگری ہیں، تاہم سرمایہ کاری کے مقصد سے سونے کے سکے اور بسکٹ کی جانب رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے، جو سونے کو نہ صرف زیبائش بلکہ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مضبوط بناتا ہے۔







