
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ماہِ سرما کی تعطیلات کے اختتام کے بعد آج لاکھوں طلبہ دوبارہ اسکول پہنچ گئے، جہاں دبئی کی معروف پیلی اسکول بسیں ایک بار پھر سڑکوں پر نظر آئیں اور نئے تعلیمی دور کا آغاز ہوا۔ ملک بھر میں دس لاکھ سے زائد طلبہ آج کلاس رومز میں واپس آئے، جبکہ اسکولوں کے باہر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک مارشلز بھی تعینات رہے۔
اسکول کیمپسز میں خوشی اور جوش کا ماحول نمایاں تھا۔ کچھ طلبہ دوستوں کے ساتھ ہنستے مسکراتے تصاویر بناتے دکھائی دیے، جبکہ بعض ابھی تک نیند کے اثر سے باہر آتے نظر آئے۔ تعطیلات کے دوران کی کہانیاں، خاندانی دورے اور کرسمس و نئے سال کی تقریبات گفتگو کا موضوع بنے رہے، اور بیشتر طلبہ کے لیے سب سے خوشگوار لمحہ ہفتوں بعد دوستوں سے دوبارہ ملاقات تھا۔
طلبہ کا کہنا تھا کہ تعطیلات کے بعد صبح سویرے اٹھنا قدرے مشکل ضرور تھا، تاہم اسکول کا زندہ دل ماحول، اساتذہ اور ساتھیوں سے دوبارہ ملنے کی خوشی نے اس مشکل کو آسان بنا دیا۔ ماہِ سرما کی چھٹیاں ایک خوشگوار وقفہ ثابت ہوئیں، لیکن معمولاتِ زندگی میں واپسی کے لیے اضافی کوشش درکار رہی۔
پانچویں جماعت کے طالب علم آکاش نندی نے کہا کہ وہ دوبارہ اسکول جا کر اپنے دوستوں اور اساتذہ سے ملنے اور نئی اسباق شروع کرنے پر خوش ہیں، تاہم صبح چھ بجے جاگنا اور سردی میں اسکول جانا انہیں بالکل پسند نہیں۔ ساتویں جماعت کے طالب علم عمر الخطیب نے بس میں سوار ہوتے ہوئے بتایا کہ وہ اب بھی نیند محسوس کر رہے ہیں، مگر دوستوں سے ملنے اور آج کے اسباق جاننے کے لیے پُرجوش ہیں۔
گیارہویں جماعت کی طالبہ مہرین عارف نے کہا کہ وہ اسکول واپسی پر بیک وقت نروس اور پُرجوش ہیں، کیونکہ یہ ان کے لیے ایک اہم تعلیمی سال ہے جس میں بورڈ امتحانات شامل ہیں۔ ان کے مطابق پڑھائی پر بھرپور توجہ ضروری ہے، مگر ساتھ ہی وہ تعطیلات کے تجربات اور اپنی انٹرن شپ کے بارے میں دوستوں کو بتانے کی منتظر بھی ہیں۔







