
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ایک معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر نے اس وقت قانونی کارروائی کا آغاز کیا جب ان کی اجازت کے بغیر ان کی تصاویر آن لائن شیئر کی گئیں۔ ایک لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والی لائسنس یافتہ انفلوئنسر اور بلاگر اس وقت حیران رہ گئیں جب انہیں معلوم ہوا کہ دو مساج سینٹرز نے ان کی تصاویر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر استعمال کی ہیں۔ ان تصاویر کے ساتھ قابلِ اعتراض، توہین آمیز اور اشاروں کنایوں پر مبنی کیپشنز بھی شامل تھے، جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
متاثرہ خاتون، جو بھارتی نژاد ہیں، نے قانونی چارہ جوئی کے لیے مختلف لاء فرمز سے رجوع کیا تاہم بھاری فیس کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ معاملے کی سنگینی اور ڈیجیٹل ہراسانی و ہتکِ عزت کے پیش نظر یاب لیگل سروسز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلام پاپنیسری نے بغیر کسی معاوضے کے کیس لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای میں اکیلی رہنے والی بہت سی خواتین سوشل میڈیا پر نشانہ بننے کے باوجود ردِعمل سے خوفزدہ ہو کر خاموش رہتی ہیں، جبکہ ناانصافی کے خلاف جرات مندانہ قدم اٹھانا ضروری ہے تاکہ دیگر خواتین کو بھی قانونی مدد حاصل کرنے کا حوصلہ مل سکے۔
تحقیقات کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مخالف فریق کو گرفتار کر لیا، جبکہ کیس کی قانونی کارروائی اس وقت جاری ہے۔ یو اے ای میں سوشل میڈیا پر ہتکِ عزت کو سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، وفاقی فرمان قانون نمبر 34 برائے 2021، جس میں 2024 کے قانون نمبر 5 کے تحت ترمیم کی گئی، آن لائن توہین یا بدنامی پر قید اور ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ درہم تک جرمانے کی سخت سزاؤں کی وضاحت کرتا ہے۔ اگر بدسلوکی کسی عوامی عہدیدار کے خلاف ہو یا بڑے پیمانے پر فالو کی جانے والی اکاؤنٹس کے ذریعے شائع کی جائے تو سزا مزید سخت ہو سکتی ہے۔
گزشتہ برس کے اواخر میں یو اے ای حکام نے سوشل میڈیا صارفین کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریری، آڈیو، ویڈیو یا لائیو اسٹریمنگ سمیت کسی بھی قسم کے منفی، توہین آمیز یا بدنام کن مواد کی اشاعت یا اس پر ردِعمل سے گریز کیا جائے، بصورتِ دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔







