متحدہ عرب امارات

کرسمس کے روز لاپتا فلپائنی محنت کش یو اے ای کے اسپتال میں مل گیا، اہل خانہ مدد کے منتظر

خلیج اردو
ابوظبی میں کرسمس کے روز لاپتا ہونے والا 52 سالہ فلپائنی محنت کش اینڈریس اندایا بالانے تقریباً دس دن بعد ایک اسپتال میں مل گیا ہے، تاہم اہل خانہ اب بھی شدید تشویش میں مبتلا ہیں کہ وہ کن حالات میں اسپتال پہنچا اور اس کی حالت کس نوعیت کی ہے۔ اینڈریس کی موجودگی کی اطلاع سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے لاپتا فرد کے پوسٹر کے ذریعے ابوظبی میں مقیم فلپائنی کمیونٹی کے افراد نے اس کے اہل خانہ کو دی۔

اینڈریس کی 21 سالہ بیٹی ایزرا نیئز بالانے، جو فلپائن میں اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ رہتی ہیں، کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کے والد کو سانس کی شدید تکلیف کے باعث وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے، ان کی سرجری بھی ہو چکی ہے اور وہ تاحال ہوش میں نہیں آئے۔ خلیج ٹائمز کو ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ اینڈریس اس وقت اسپتال کے سرجیکل آئی سی یو میں زیر علاج ہیں، تاہم ان کی صحت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

ایزرا کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو صرف ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ تھا اور ماضی میں کسی سنگین بیماری کی شکایت نہیں تھی۔ اہل خانہ کی اینڈریس سے آخری بات 25 دسمبر کی صبح ساڑھے سات بجے ہوئی تھی، جب انہوں نے بتایا تھا کہ وہ کرسمس کے موقع پر چرچ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مکمل طور پر لاپتا ہو گئے اور یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کب اور کہاں سے اسپتال منتقل کیا گیا۔

ایزرا کے مطابق انہوں نے ابوظبی پولیس سے بھی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم اپنے والد کے آجر، جو مصفح سی پورٹ میں واقع ایک انجینئرنگ کمپنی ہے، سے براہ راست رابطہ نہ ہو سکا۔ البتہ ایک ساتھی ملازم سے بات ہوئی جس نے کمپنی کو اطلاع دینے کی یقین دہانی کرائی، مگر تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اینڈریس کے کزن، جو دبئی میں مقیم ہیں، ابوظبی جا کر ان سے ملاقات اور صورتحال جاننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اہل خانہ نے فلپائن میں اوورسیز ورکرز ویلفیئر ایڈمنسٹریشن میں بھی شکایت درج کروا دی ہے اور انہیں امید ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے جلد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اینڈریس کی اہلیہ، جو فلپائن میں ایک سیلون چلاتی ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ اپنی دو کم عمر بیٹیوں کے لیے حوصلہ رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ حالات نہایت مشکل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، کسی کے پاس پاسپورٹ موجود نہیں اور ابوظبی پہنچنا فی الحال ممکن نہیں، جبکہ اسپتال کی جانب سے قریبی اہل خانہ کی فوری موجودگی کا کہا گیا ہے۔

اینڈریس کا تعلق فلپائن کے علاقے بیکول سے ہے اور وہ گزشتہ سات برس سے متحدہ عرب امارات میں بطور آکسیجن ویلڈر کام کر رہے تھے۔ خاندان کے مطابق 2018 میں یو اے ای جانے کے بعد سے وہ ان سے ملاقات نہیں کر سکے تھے، تاہم وہ اپنی بیٹیوں سے باقاعدگی سے رابطے میں رہتے تھے اور گھر والوں کی ہر ممکن مدد کرتے تھے۔ بیٹی ایزرا کا کہنا ہے کہ ان کے والد نہایت شفیق، خیال رکھنے والے اور فیاض انسان ہیں اور وہ ہر حال میں اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

اہل خانہ اب یو اے ای مشن سے بھی رابطہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ فلپائن کے سرکاری اداروں سے جواب کے منتظر ہیں، تاکہ اینڈریس کے علاج اور خاندان کی مدد سے متعلق کوئی ٹھوس پیش رفت ہو سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button