متحدہ عرب امارات

فلمی انداز میں ڈیزائن کیا گیا ریزورٹ: وِن المرجان آئی لینڈ میں مہمان کیا دیکھیں اور کیا محسوس کریں گے

خلیج اردو
راس الخیمہ کے جزیرے المرجان پر وِن المرجان آئی لینڈ ریزورٹ 2027 کی بہار میں کھلنے جا رہا ہے۔ ادارے کے صدر اور چیف کریئیٹو آفیسر ٹوڈ ایوری لینہان کے مطابق ریزورٹ میں داخلے کا مکمل تجربہ فلم سازی کے انداز پر ترتیب دیا گیا ہے تاکہ مہمان خود کو ایک سینیمیٹک سفر کے آغاز پر محسوس کریں۔

انہوں نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں بتایا کہ فلم کی طرح یہاں بھی مہمانوں کی نقل و حرکت، زاویۂ نظر اور احساسات کو باریک بینی سے ترتیب دیا گیا ہے۔ لابی کو سیٹ ڈیزائن کے انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے جو مہمان کو سمندر کے کنارے شروع ہونے والے منفرد تجربے کے پہلے سین میں لے آتی ہے۔

لینہان کے مطابق ریزورٹ خود کو ایک دم ظاہر نہیں کرتا بلکہ آہستہ آہستہ کھلتا ہے۔ ہر موڑ پر دریافت کا احساس دیا گیا ہے اور کوئی بھی چیز اتفاقی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر رکھی گئی ہے۔ ریزورٹ کو مناظر، منظرناموں اور روشنی کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کیا گیا ہے کہ کہانی کے آگے بڑھنے کا تاثر قائم رہے۔

راس الخیمہ کے اثرات ڈیزائن میں نمایاں ہیں۔ وِن برانڈ کی پہچان نفیس دستکاری، تناسب اور نفاست ہے جبکہ مقامی ماحول کے مطابق جگہ، پرائیویسی اور سکون کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ مہمان کمروں کو تہہ دار اور پرسکون انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ رہائش محفوظ اور آرام دہ محسوس ہو۔

وِن عام طور پر لاس ویگاس کی رنگا رنگ چمک کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، تاہم اس ریزورٹ میں وہ روح مختلف انداز میں جھلکتی ہے۔ نچلی منزلوں پر زیادہ توانائی محسوس ہوتی ہے جبکہ اوپر جاتے ہوئے ماحول ہلکا اور پُرسکون ہوتا جاتا ہے۔ انداز وِن کا ہے مگر تجربہ مشرق وسطیٰ کی فضا سے جڑا ہوا ہے۔

عمارت کی سمت کا تعین بھی قدرتی ماحول کو دیکھ کر کیا گیا۔ ساحل شمال کی جانب ہونے کی وجہ سے ریزورٹ کو کھلے سمندر کی طرف رخ دے کر تعمیر کیا گیا تاکہ پانی کا منظر مرکزی رہے۔ خلیج پر پڑتی دھوپ اور اس کے رنگوں نے بھی ڈیزائن میں اہم کردار ادا کیا۔

ریزرٹ میں فنِ تعمیر اور آرٹ کو ایک ساتھ جوڑا گیا ہے۔ بعض اہم آرٹ ورکس ڈیزائن کے ابتدائی مرحلے میں ہی منتخب کر لیے گئے تھے اور انہی کے گرد پورے کمروں کی ساخت، رنگ اور تناسب طے ہوا۔ قدیم اور جدید آرٹ کا امتزاج مہمانوں کو عام میوزیم کے بجائے زندہ گیلری کا تجربہ فراہم کرے گا جہاں آرٹ کے ساتھ براہ راست تعامل ممکن ہوگا۔

مقامی ثقافتی ورثے کی جھلک بھی آرٹ کلیکشن میں شامل ہے اور خطے سے تعلق رکھنے والے معاصر فنکاروں کے کام بھی اس کا حصہ ہیں۔ لینہان کے مطابق مشکل ترین فیصلے وہ تھے جو سب سے کم نظر آتے ہیں جیسے عمارت کی سمت کا فیصلہ اور آرٹ کے بڑے مجموعے کو ریزورٹ کے ڈیزائن میں شامل کرنا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button