
خلیج اردو
اتوار کی دوپہر شارجہ کے مختلف علاقوں میں عارضی طور پر بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی جس سے عوامی زندگی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ بجلی کا یہ تعطل دوپہر کے قریب شروع ہوا اور اس نے المجاز، التعاون، جمال عبدالناصر اسٹریٹ سمیت قریبی رہائشی و تجارتی علاقوں کو متاثر کیا۔
محکمے کی تکنیکی ٹیموں نے فوری کارروائی کی اور بعد ازاں بجلی بحال کر دی گئی۔ حکام کے مطابق یہ بندش مقامی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آئی تھی اور اب نظام معمول کے مطابق چل رہا ہے۔
بجلی کی بندش سے گھروں، دکانوں اور اے ٹی ایمز پر تو مشکل پیش آئی، ساتھ ہی ٹریفک سگنلز بھی بند ہو گئے جس سے موٹر سواروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران چند رضاکارانہ شہریوں نے آگے بڑھ کر ایک بڑے چوک پر ٹریفک کی رہنمائی سنبھال لی تاکہ سڑکوں پر گڑبڑ یا حادثات کا خطرہ کم ہو سکے۔
خلیج ٹائمز کو موصول وڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈلیوری رائیڈرز رنگین یونیفارم پہنے سڑک کے وسط میں کھڑے چاروں اطراف سے آنے والی گاڑیوں کو اشاروں سے گائیڈ کر رہے ہیں۔ ان کی وردیوں سے پتا چلتا ہے کہ یہ رائیڈرز اسمایل، نون اور کیتا جیسی کمپنیوں سے تھے جو مل کر چوراہے پر موجود رہے اور موٹر سواروں اور پیدل چلنے والوں کو محفوظ طریقے سے گزرانے میں مدد کرتے رہے۔ اسکول بسیں اور ٹیکسیاں بھی ٹریفک کا حصہ تھیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ رائیڈرز نے کمیونٹی کی خدمت میں اہم کردار ادا کیا ہو۔ 2024 میں دبئی کی السہل اسٹریٹ پر ایک طلبات رائیڈر کو لٹکتی ہوئی ٹریفک لائٹ درست کرنے پر سراہا گیا تھا۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کی یہ خدمت کیمرے میں محفوظ ہو رہی ہے۔
ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق آج کی بجلی بندش پاور نیٹ ورک میں مقامی ایمرجنسی فالٹ کے باعث ہوئی جس کے نتیجے میں خودکار حفاظتی نظام فعال ہو گئے تاکہ گرڈ کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور خرابی کو وسیع علاقوں تک پھیلنے سے روکا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات میں بجلی کی بندش کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں۔ کسی تکنیکی خرابی یا مرمت کے باعث اگر مقامی سطح پر سپلائی معطل بھی ہو جائے تو اسے تیزی سے بحال کر دیا جاتا ہے جس کی بڑی وجہ مضبوط گرڈ سسٹم، خودکار حفاظتی انتظامات اور تیز رفتار رسپانس ٹیمیں ہیں۔







