
خلیج اردو
حقوقِ انسانی کی تنظیم HRANA کے مطابق ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری حکومت مخالف اور معاشی بدحالی کے خلاف مظاہروں کے دوران کم از کم 490 مظاہرین اور 48 سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 10,600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایران کی حکومت نے تاحال سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔
مظاہرے مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف شروع ہوئے تھے جو بعد میں حکومت اور مذہبی قیادت کے خلاف بڑے احتجاج میں بدل گئے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے کریک ڈاؤن میں شدت پیدا کر دی ہے جبکہ کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے جس سے معلومات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
ایران نے احتجاج میں بیرونی مداخلت کے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل مظاہروں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو امریکی اڈے، بحری جہاز اور اسرائیلی مقبوضہ علاقے جائز ہدف ہوں گے۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا، ضرورت پڑنے پر ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے ایران کے معاملے پر مختلف آپشنز پر غور کیا جن میں فوجی کارروائی، سائبر حملے، پابندیوں میں توسیع اور آن لائن معاونت شامل ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں سے بڑے احتجاجی جلسے اور جلوسوں کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جب کہ سرکاری ٹی وی نے سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بعد جنازوں کی کوریج دکھائی ہے۔







