متحدہ عرب امارات

دبئی: ڈسکوری گارڈنز کے زین کلسٹر کے مکینوں کو مفت پارکنگ کی عدم اہلیت پر وضاحت کا انتظار

دبئی:: ڈسکوری گارڈنز کے زین کلسٹر (پنک بلڈنگز) کے رہائشی اس وقت تشویش کا شکار ہیں، جب پارکونک کی جانب سے جاری کردہ نئے سرکلر میں بعض مکینوں کو مفت پارکنگ پرمٹ کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ پارکونک نے پیر (19 جنوری) سے علاقے میں باضابطہ طور پر پیڈ پارکنگ سروس کا آغاز کیا ہے۔

اس سے قبل پارکونک نے اعلان کیا تھا کہ ڈسکوری گارڈنز میں وہ تمام رہائشی یونٹس جن کے پاس نجی پارکنگ نہیں ہے، انہیں ایک مفت پارکنگ پرمٹ دیا جائے گا، جبکہ ایک سے زائد گاڑی رکھنے والوں کو ماہانہ 945 درہم کے عوض ممبرشپ لینا ہوگی۔ اس اعلان سے بیشتر مکینوں کو ریلیف ملا تھا کیونکہ کمیونٹی کے زیادہ تر کلسٹرز میں نجی پارکنگ دستیاب نہیں۔

البتہ زین کلسٹر اس پالیسی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا، کیونکہ یہاں ون بیڈ روم اپارٹمنٹس کو بیسمنٹ پارکنگ فراہم کی جاتی ہے۔ اس کلسٹر میں اسٹوڈیو اپارٹمنٹس کے مکینوں کو عمارت کے اندر پارکنگ الاٹ نہیں کی جاتی اور وہ سڑک کنارے پارکنگ استعمال کرتے ہیں۔

پارکونک کے ابتدائی اعلان کے بعد زین کلسٹر کے کئی مکینوں نے ایجاری پارکونک ایپ پر رجسٹر کی، انہیں پن کوڈ ملا اور ایپ پر اسٹیٹس “Approved” ظاہر ہوا، جس سے وہ مفت پارکنگ کے اہل سمجھے جا رہے تھے۔

تاہم، اس ہفتے جاری کیے گئے نظرثانی شدہ نوٹس میں واضح کیا گیا کہ زین کلسٹر کے مکینوں کے لیے رہائشی پارکنگ صرف اپنی عمارت کی بیسمنٹ پارکنگ تک محدود ہے، اور اسٹریٹ پارکنگ اس میں شامل نہیں۔ اس کے مطابق جن مکینوں کے پاس بیسمنٹ پارکنگ الاٹ نہیں، وہ مفت پارکنگ کے اہل نہیں ہوں گے اور ان پر وزیٹر پارکنگ چارجز لاگو ہوں گے۔

یہ نیا سرکلر بعض مکینوں کو ہفتے کی رات (17 جنوری) ای میل کے ذریعے موصول ہوا، جبکہ کئی افراد نے اسے اتوار کو عمارت کی لابی میں آویزاں دیکھا۔ زین کلسٹر میں اسٹوڈیو اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر محمد عمیر نے کہا کہ انہیں اس نئی پالیسی کا علم پیر کی صبح لفٹ کے قریب لگے نوٹس سے ہوا۔

ڈسکوری گارڈنز میں 2011 سے مقیم گریس کا کہنا تھا کہ بیسمنٹ پارکنگ صرف ون بیڈ روم اپارٹمنٹس کے لیے ہے، جبکہ اسٹوڈیو اپارٹمنٹس کے مکین اس سہولت سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق دیگر کلسٹرز میں اسٹوڈیو مکینوں کو بھی مفت پارکنگ دی جا رہی ہے، مگر زین کلسٹر کے ساتھ مختلف سلوک کیا جا رہا ہے۔

75 سے زائد مکینوں پر مشتمل واٹس ایپ گروپ میں رہائشیوں نے نشاندہی کی کہ بیسمنٹ پارکنگ کی گنجائش محدود ہے۔ مکینوں کا مؤقف ہے کہ غیرقانونی گاڑیوں کے خاتمے کے بعد اسٹریٹ پارکنگ کی گنجائش موجود ہے، اس لیے اسٹوڈیو مکینوں کو بھی مفت پارکنگ کی سہولت دی جانی چاہیے۔

ایس وی پٹیل، جو گزشتہ آٹھ برس سے یہاں مقیم ہیں، نے کہا کہ بیسمنٹ پارکنگ تمام یونٹس کے لیے ناکافی ہے، اس صورت میں اسٹریٹ پارکنگ کی ایک مفت جگہ دینا منصفانہ ہوگا۔

ایم ڈی توصیف کا کہنا تھا کہ نیا نظام غیرقانونی پارکنگ کے خاتمے میں مؤثر ہے، مگر جن کے پاس بیسمنٹ پارکنگ نہیں، انہیں بھی ایک مفت پارکنگ دی جانی چاہیے۔

بلڈنگ 17 میں رہائش پذیر ایس کے جی کے مطابق نئی پالیسی کے تحت کلینک، گروسری یا کمیونٹی سہولیات کے لیے مختصر دورانیے کی پارکنگ پر بھی فیس دینا پڑتی ہے، جو ناانصافی ہے۔

اگرچہ پیڈ پارکنگ کے بعد غیرقانونی گاڑیوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہے، تاہم زین کلسٹر کے اسٹوڈیو مکینوں کے لیے یہ پابندیاں ذہنی دباؤ اور اضافی مالی بوجھ کا باعث بن رہی ہیں۔

بلڈنگ 17 کی رہائشی ریشمہ صدیقی نے کہا کہ متوسط آمدنی والے مکین پہلے ہی بلند کرایہ ادا کر رہے ہیں اور کئی برسوں سے یہاں رہائش پذیر ہیں، لہٰذا انہیں بھی دیگر مکینوں کی طرح ایک مفت پارکنگ دی جانی چاہیے۔

مکینوں نے اپنے اپنے مالکان اور بلڈنگ مینجمنٹ سے رابطہ کیا ہے۔ بعض مکینوں کے مطابق مینجمنٹ نے بتایا ہے کہ وہ اس معاملے پر پارکونک سے رابطے میں ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button