
خلیج اردو
بارسلونا: شارجہ میں فٹبال کھیلنے کا آغاز کرنے والے بھارتی نوجوان سوہم بھگواتی آج اسپین میں پروفیشنل فٹبال کے میدان میں اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ نیمر سے متاثرہ کھیل اور جدید ہیئر اسٹائل کے باعث وہ نہ صرف میدان میں توجہ حاصل کر رہے ہیں بلکہ جب لوگ ان کا بھارتی پاسپورٹ دیکھتے ہیں تو مزید حیران رہ جاتے ہیں۔
22 سالہ سوہم، جو اس وقت اسپین کے کاتالان کلب ٹیراسا ایف سی کی انڈر 23 ٹیم کا حصہ ہیں، کا کہنا ہے کہ اسپین میں زیادہ تر لوگ بھارت کو فٹبال سے نہیں جوڑتے۔
“جب میں بتاتا ہوں کہ میں بھارتی ہوں تو لوگ واقعی حیران ہو جاتے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ اس بات کی قدر بھی کرتے ہیں کہ میں اتنی دور سے اپنا کمفرٹ زون چھوڑ کر پروفیشنل فٹبال کے خواب کے تعاقب میں آیا ہوں،” انہوں نے بارسلونا سے ویڈیو کال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
سوہم نے محض 15 سال کی عمر میں شارجہ کے ایک چھوٹے سے ٹریننگ سینٹر سے فٹبال کھیلنا شروع کیا تھا۔ آج وہ نہ صرف اسپین میں کلب فٹبال کھیل رہے ہیں بلکہ حال ہی میں برازیل میں منعقد ہونے والے کنگز ورلڈ کپ نیشنز میں بھارت کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ سات رکنی ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ میں بھارت کو اگرچہ میکسیکو، سعودی عرب اور انڈونیشیا کے خلاف ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم سوہم نے دو گول اسکور کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
سوہم کا کہنا ہے کہ کنگز لیگ کا تجربہ ان کے لیے بے حد خاص رہا۔
“نیمر، سرجیو اگیرو اور لامین یامال جیسے بڑے نام اس لیگ سے جڑے رہے ہیں۔ یہاں پروفیشنل اور فٹسال کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ سیکھنے کو ملا،” انہوں نے کہا۔
اسی ٹورنامنٹ کے دوران سوہم کو اپنے پسندیدہ کھلاڑی نیمر سے ملاقات کا موقع بھی ملا، جسے وہ اپنے لیے خواب کی تعبیر قرار دیتے ہیں۔
سوہم اس وقت بارسلونا میں اسپورٹس مینجمنٹ کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تین سال قبل اسپین منتقلی نے انہیں ذہنی طور پر مضبوط اور خودمختار بنا دیا۔
“دبئی میں ہم ایک محفوظ ماحول میں خاندان کے ساتھ رہتے ہیں، مگر یہاں آ کر مجھے سب کچھ خود سنبھالنا پڑا۔ یہ تجربہ مشکل ضرور تھا، مگر زندگی کے بہترین تجربات میں سے ایک ثابت ہوا،” انہوں نے کہا۔
سوہم کا اگلا اور بڑا ہدف لا لیگا 2 میں جگہ بنانا ہے۔
“یہ اسپین کا انتہائی اعلیٰ معیار کا مقابلہ ہے اور میں دن رات محنت کر رہا ہوں کہ اس سطح تک پہنچ سکوں،” انہوں نے کہا۔
آخر میں سوہم نے اپنے والدین اور خاندان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شارجہ کے ایک پارک میں چھوٹے سے گروپ کے ساتھ فٹبال کھیلنے والا آج بارسلونا میں اپنے خواب کے قریب پہنچ چکا ہے۔
“میں اب کیمپ نو سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہوں، جہاں کبھی میرا آئیڈیل نیمر کھیلا کرتا تھا۔ امید ہے ایک دن لا لیگا 2 میں کھیل کر اپنے خاندان کا نام روشن کروں گا۔







