متحدہ عرب امارات

کم سگریٹ، خطرات وہی: یو اے ای میں ڈاکٹرز کی وارننگ

خلیج اردو
یو اے ای میں ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ سگریٹ نوشی کم کر دینے سے صحت کے خطرات ختم نہیں ہوتے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بہت سے افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے سگریٹ چھوڑا نہیں بلکہ صرف مقدار کم کی ہے، تاہم یہ سوچ درست نہیں۔

متعدد سگریٹ نوشوں کا کہنا ہے کہ وہ اب روزانہ ایک پیکٹ کے بجائے چند سگریٹ پیتے ہیں یا صرف دباؤ اور سماجی تقریبات میں سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ کئی افراد نکوٹین پیچز اور دیگر اسموک فری متبادل بھی آزما رہے ہیں۔

پلمونولوجی کی ماہر ڈاکٹر رائزہ حمید کے مطابق، “چند سگریٹ پینا بھی دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خطرات برقرار رکھتا ہے، اور بعض افراد کم پینے کی صورت میں زیادہ گہرے کش لیتے ہیں جو فائدہ کم کر دیتا ہے۔”

فیملی میڈیسن کی ماہر ڈاکٹر مروہ محمد کا کہنا ہے، “کبھی کبھار سگریٹ نوشی بھی جسم کو نقصان پہنچاتی ہے، اصل بہتری تب آتی ہے جب سگریٹ مکمل طور پر چھوڑ دی جائے۔”

سویڈن میں مقیم کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر عامر حنیف کے مطابق، “سویڈن میں سخت پالیسیوں، متبادل ذرائع اور آگاہی کی بدولت برسوں میں سگریٹ نوشی کی شرح نمایاں طور پر کم ہوئی اور اس کے مثبت اثرات صحتِ عامہ پر نظر آئے۔”

مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ سگریٹ کم کرنا پہلا قدم ہو سکتا ہے، مگر مکمل ترکِ سگریٹ کے بغیر صحت کے خطرات ختم نہیں ہوتے، اس لیے اصل ہدف مکمل نجات ہونا چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button