متحدہ عرب امارات

ایران کشیدگی کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا

خلیج اردو

امریکی فوج کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا ہے، جس سے خطے میں امریکی عسکری طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یو ایس سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ "کیریئر اسٹرائیک گروپ خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہے”۔

یہ بحری بیڑہ ایسے وقت میں خطے میں پہنچا ہے جب ایران میں حکومت مخالف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد صورتحال کشیدہ ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ "تمام آپشنز اب بھی میز پر موجود ہیں”۔

ایران میں مظاہروں کا آغاز دسمبر کے آخر میں معاشی مسائل کے باعث ہوا، جو بعد ازاں اسلامی جمہوریہ کے خلاف ایک وسیع احتجاجی تحریک میں تبدیل ہو گئے، جن میں 8 جنوری کے بعد کئی روز تک بڑے مظاہرے ہوتے رہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی حکام نے انٹرنیٹ بندش کی آڑ میں مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کرتے ہوئے غیر معمولی کریک ڈاؤن کیا۔

صدر ٹرمپ نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو ہلاک کیا گیا تو امریکا فوجی مداخلت کرے گا، اور ایرانی عوام کو ریاستی اداروں پر قبضے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا تھا کہ "مدد راستے میں ہے”۔

تاہم رواں ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے فضائی حملوں کا حکم دینے سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ "واشنگٹن کے دباؤ پر ایران نے 800 سے زائد سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا ہے”۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "ایران اپنی صلاحیتوں پر پُر اعتماد ہے”۔

انہوں نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ایسے جنگی جہاز کی آمد ایران کے عزم اور قوم کے دفاع کے عزم کو متاثر نہیں کرے گی

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button