
خلیج اردو
دبئی میونسپلٹی نے خوراک کے جدید اور نئی اقسام کے فوڈ پروڈکٹس کی جانچ کے لیے اپنی لیبارٹریز کی صلاحیتوں میں توسیع کر دی ہے، جس کے تحت اب خوراک میں کیڑوں کی موجودگی کی بھی جانچ کی جا سکے گی۔ یہ اقدام گلف فوڈ 2026 کے موقع پر سامنے آنے والے نئے منصوبوں میں شامل ہے۔
دبئی میونسپلٹی کے مطابق یہ سہولت اس لیے متعارف کرائی گئی ہے تاکہ صارفین کو شفاف معلومات فراہم کی جا سکیں اور انہیں یہ حق حاصل ہو کہ وہ جان سکیں ان کی خوراک میں کیا شامل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس جانچ کے ذریعے خوراک میں کیڑوں کی موجودگی کو شناخت، رپورٹ اور دستاویزی شکل دی جا سکے گی، جن میں غیر حلال اقسام جیسے میل ورمز، جھینگر، بھنگے اور دیگر کیڑے شامل ہیں۔ اس اقدام سے درست لیبلنگ، فوڈ سیفٹی معیارات اور حلال قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
ماحولیات، صحت اور سیفٹی ایجنسی کی سی ای او ڈاکٹر نسیم محمد رفیع نے کہا کہ "دبئی میونسپلٹی کا بنیادی مقصد فوڈ سیکٹر کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے سپورٹ فراہم کرنا ہے”۔
انہوں نے بتایا کہ بندرگاہوں پر معائنے کے لیے آگمینٹڈ ریئلٹی اسمارٹ گلاسز کا پائلٹ منصوبہ بھی شروع کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے انسپکٹر دفتر میں بیٹھ کر گودام میں موجود سامان کی جانچ کر سکے گا، جس میں درجہ حرارت، سرٹیفکیٹس اور بارکوڈ شامل ہیں۔
دبئی میونسپلٹی نے اماراتی شہد فنگر پرنٹ منصوبے کی تفصیلات بھی جاری کیں، جس کا مقصد مقامی شہد کی اصلیت اور معیار کی تصدیق کے لیے ایک مستند ڈیٹا بیس قائم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ گزشتہ ماہ ہتہ ٹریڈرز کونسل کے ساتھ شہد فیسٹیول کے دوران طے پایا تھا۔
اس منصوبے کے تحت براہِ راست مکھی خانوں سے نمونے لے کر جدید سائنسی تجزیوں کے ذریعے شہد کی کیمیائی، نباتاتی اور حیاتیاتی خصوصیات کا ریکارڈ تیار کیا جائے گا، جو ٹریس ایبلٹی اور فیصلہ سازی میں معاون ہوگا۔
ڈاکٹر نسیم کے مطابق مستقبل کا فoresight میپ دبئی میں درآمد ہونے والی خوراک کی مسلسل نگرانی میں مدد دیتا ہے، جس کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی خوراکی شے کا انحصار صرف ایک ملک پر تو نہیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ "یوکرین جنگ کے دوران متبادل ممالک سے درآمدات کے ذرائع تلاش کیے گئے، یہ نقشہ ہمیں آئندہ بھی ایسی صورتحال کے لیے تیار رکھتا ہے”۔






