متحدہ عرب امارات

یو اے ای اور عمان میں ایپٹامل انفنٹ فارمولا کا ایک بیچ واپس منگوا لیا گیا

خلیج اردو

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات اور ایمریٹس ڈرگ اتھارٹی نے بیکٹیریا کی ممکنہ آلودگی کے خدشات کے پیشِ نظر Aptamil Advance 1 POF انفنٹ فارمولا کے ایک مخصوص بیچ کو واپس منگوا لیا ہے۔ یہ مصنوعات نٹریشیا مڈل ایسٹ (ڈینون) کی تیار کردہ ہیں اور یو اے ای کی بڑی ریٹیل مارکیٹس سے ہٹا دی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق یہ فارمولا پیدائش سے چھ ماہ تک کے بچوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ متاثرہ بیچ کی ایکسپائری تاریخ 8 نومبر 2026 ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ متاثرہ بیچ میں Bacillus cereus بیکٹیریا کے آثار پائے گئے، جو بعض صورتوں میں cereulide نامی زہریلا مادہ پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے باعث فوڈ پوائزننگ، متلی، قے اور پیٹ درد جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔

نٹریشیا مڈل ایسٹ کے تعاون سے ڈسٹری بیوٹرز کے گوداموں میں موجود تمام متعلقہ بیچز کو روک دیا گیا ہے، جبکہ مارکیٹ میں دستیاب باقی مصنوعات کی واپسی کا عمل جاری ہے۔

ایمریٹس ڈرگ اتھارٹی نے احتیاطی ہدایت جاری کرتے ہوئے ملک بھر کی تمام دکانوں اور طبی مراکز سے متاثرہ بیچ فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا ہے۔

حکام نے یو اے ای میں صارفین کو ہدایت کی ہے کہ اگر ان کے پاس موجود فارمولا کی ایکسپائری تاریخ 8 نومبر 2026 ہے تو اسے استعمال نہ کریں اور محفوظ طریقے سے تلف کر دیں۔

کویت کے حکام نے بھی cereulide کی موجودگی کے باعث اسی فارمولا کو واپس منگوا لیا ہے۔

ادھر عمان کی وزارتِ صحت نے ڈینون کی اطلاع پر Aptamil Advance POF 1 کا ملک گیر رضاکارانہ ری کال کیا ہے۔ مسقط ڈیلی کے مطابق متاثرہ بیچ مئی 2025 میں تیار کیا گیا تھا اور اس کی ایکسپائری تاریخ بھی 8 نومبر 2026 ہے۔

اگرچہ عمان میں تاحال کسی بیماری کی اطلاع نہیں ملی، تاہم حکام نے شہریوں کو فوری طور پر مصنوعات کا استعمال بند کرنے اور محفوظ طریقے سے ضائع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ڈینون نے برطانیہ اور یورپی ممالک میں بھی ایپٹامل انفنٹ فارمولا کے کچھ بیچز واپس منگوائے تھے۔ 26 جنوری کو آئرلینڈ کی فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے بھی cereulide کی موجودگی کے باعث Aptamil 1 From Birth کے ایک مخصوص بیچ کا ری کال جاری کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق انفنٹ فارمولا سے متعلق فوری اور احتیاطی اقدامات بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہیں اور والدین کو ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button